الطاف حسین نے تنظیمی کمیٹی برطرف کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میرا کسی سے اختلاف ہے اور نہ کسی سے جھگڑا اگر کوئی ہے تو وہ ہے کام: الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے ایک بار پھر کارکنوں کی اپیل پر قیادت سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے کراچی کی تنظیمی کمیٹی ختم کر دی ہے۔

کراچی میں جمعرات کی شب ورکرز کانفرنس سے ٹیلیفونک خطاب میں الطاف حسین نے تنظیم میں بد انتظامی اور بدعنوانی کی نشاندہی کی۔

اس موقعے پر عام کارکنوں نے بھی ان کے سامنے ذمہ داروں کے رویوں کی شکایت کی۔

الطاف حسین نے اپنی سیاسی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جیلوں میں گئے، اذیتوں میں رہے، ظلم و ستم کا نشانہ بنے، پاکستان میں دربدری کی زندگی گزاری اور حالت مجبوری میں ملک سے باہر گئے۔

الطاف حسین نے تنظیمی ذمہ داروں کو مخاطب ہو کر کہا کہ ان کا کسی سے اختلاف ہے اور نہ کسی سے جھگڑا، اگر کوئی ہے تو وہ کام ہے۔

’میں نے آپ کے ہاتھوں میں امانت اور ذمہ داری اس ضمانت پر دی تھی کہ اس کا ناجائز استعمال نہ کرنا، لیکن یہاں سب پسند اور ناپسند میں تبدیل ہوگیا ہے، یہاں تک کہ سیکٹر انچارج بھی اپنی مرضی کی بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں۔‘

الطاف حسین نے کارکنوں کو بتایا کہ کراچی کو محفوظ بنانے کے لیے شہر کے چاروں اطراف آبادیاں بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی لیکن وہاں ایک بھی اردو بولنے والا نہیں رہتا: ’آج بھی لانڈھی، کورنگی اور دیگر علاقوں میں پلاٹ بیچنے کا کام ہو رہا ہے۔‘

ایم کیو ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تنظیم نے ذمہ داروں کو 17، 18 گریڈ کی نوکریاں دیں، جہاں سے وہ ایک ایک لاکھ کمیشن لے رہے ہیں اس کے علاوہ وہ خدمتِ خلق فاونڈیشن سے بھی تنخواہ بھی لے رہے ہیں تاہم وہ صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہے۔

کارکنوں نے انھیں مخاطب کر کے کہا کہ شہر میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اس لیے تحریک میں احتسابی عمل فوری شروع کیا جائے۔ اس پر الطاف حسین نے کراچی تنظیمی کمیٹی ختم کرنے کا اعلان کیا اس کے علاوہ رابطہ کمیٹی اور لندن سیکریٹریٹ کو متنبہ کیا کہ وہ خود کو درست کریں ورنہ انھیں فارغ کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں