12 لاپتہ افراد کی موجودگی کا پتہ چلا ہے: کمیشن

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لاپتہ افراد کے بارے میں قائم کیے گئے کمیشن کا آئندہ اجلاس کراچی میں 15 ستمبر کو ہو گا

حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کے ایک بیان کے مطابق اگست میں 12 لاپتہ افراد کے بارے میں پتہ چلا ہے۔

ان میں سے محض چار اپنے گھروں کو جا سکے ہیں باقی آٹھ کی کوہاٹ، سوات اور دیگر مقامات پر حراستی مراکز میں موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

کمیشن کے بیان کے مطابق اس کے پاس یکم جنوری سنہ 2011 میں 138 لاپتہ افراد تھے۔ اس کے بعد سے کمیشن کو 31 اگست تک 2,069 افراد سے متعلق شکایات موصول ہوئیں جس سے لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد 2,200 سے زائد ہوگئی۔ ان میں سے 763 افراد کے کیسوں سے نمٹا جا چکا ہے جب کہ 1,444 کیس اب بھی حل طلب ہیں۔

دیگر تین گھر پہنچنے والوں میں ایبٹ آباد کے حافظ اقرار احمد عباسی، گوجرانولہ کے احسان الرحمان اور محمد طارق شامل ہیں۔ باقی آٹھ میں سے ایک درخواست جبری گمشدگی کی نہیں تھی لہٰذا مسترد کر دی گئی جبکہ سات افراد کی مختلف حراستی مراکز میں موجودگی کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

تقریباً 16 ماہ تک سکیورٹی اداروں کی حراست میں رہنے کے بعد محمد شہر یار گذشتہ ماہ اپنے گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔

36 سالہ شہر یار کو اسلام آباد کے قریب ترنول سے سکیورٹی اداروں نے اٹھایا تھا۔ ان کے بھائی حضرت اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بڑے بھائی پر دورانِ حراست تشدد نہیں کیا گیا، لیکن کہتے ہیں کہ کافی کمزور ہو گئے ہیں۔

دو بیٹوں کے باپ محمد شہر یار کا تعلق بنیادی طور پر خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ سے ہے لیکن وہ کافی عرصے سے پورے خاندان کے ساتھ ترنول میں قیام پذیر ہیں۔

وہ پراپرٹی کا کاروبار کرتے تھے اور ان کے بھائی ان کی کسی شدت پسند تنظیم سے تعلق سے انکار کرتے ہیں۔

ان کے بھائی کہتے ہیں انھیں نہیں معلوم کہ ان کے بھائی کو کس شک کی بنیاد پر اٹھایا گیا۔

محمد شہر یار کی بازیابی کے لیے ان کے اہل خانہ نے آمنہ جنجوعہ کی حقوقِ انسانی کی تنظیم سے مدد کی درخواست کی تھی۔

ان کے علاقے سے اسی طرح ایک درزی کو بھی مبینہ طور پر اٹھایا گیا تھا اور بعد میں اس کی لاش ملی تھی۔ اسی خوف اور بے بسی نے انھیں اب خاموش رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔

حضرت اللہ سے دریافت کیا کہ ان 15 ماہ کی حراست کا ذمہ دار کون ہے، تو ان کا کہنا تھا: ’ہم تو غریب لوگ ہیں۔ ہم نے ایک مرتبہ خوف کی وجہ سے اپنا کیس واپس بھی لے لیا تھا کیونکہ نہ تو ہماری کوئی اپروچ ہے اور نہ پیسہ۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے ہاتھ پاؤں مارنے سے اسے کوئی اذیت پہنچے یا مارا جائے۔ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ بس زندہ مل گیا یہی اللہ کا شکر ہے۔‘

سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں کام کرنے والے کمیشن کی سُست کارکردگی پر کئی لوگ اعتراض کرتے ہیں لیکن اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے اہلکار اگست میں چونکہ وفاقی دارالحکومت میں مارچ اور دھرنوں میں غیرمعمولی طور پر مصروف تھے لہٰذا اس کمیشن کا اس ماہ کوئی اجلاس نہیں ہو سکا۔

اب کمیشن اپنا آئندہ اجلاس کراچی میں 15 ستمبر کو منعقد کرے گا جس میں 111 افراد کی چھان بین متوقع ہے۔ اس کے بعد کمیشن لاہور کا رخ کرے گا جہاں 22 ستمبر سے 62 افراد کے بارے میں جاننے کی کوشش کرے گا۔

اسی بارے میں