پنجاب اور کشمیر میں شدید بارشیں، ہلاکتیں 74

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور کے نشیبی علاقوں میں پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو چکا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقوں میں مسلسل بارشوں کے باعث 74 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے فوج طلب کر لی گئی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اب تک پنجاب سے 36 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

ادھر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے صحافی مرزا اورنگزیب جرال نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے سٹیٹ ڈیزازسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ اکرم سہیل کے حوالے سے بتایا کہ وہاں بارشوں کے باعث لینڈ سلائڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور گھروں کی چھتیں گرنے سے 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کشمیر میں بارشوں سے سب سے زیادہ نقصان ضلح سدھ نوتی، باغ، حویلی، بمبھر اور کوٹلی میں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظفر آباد اور دیگر شہروں کے درمیان رابطہ کٹ چکا ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے پاکستان کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے ترجمان نے بتایا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ افراد دارالحکومت لاہور میں مارے گئے جن کی تعداد 13 ہے۔

اس کے علاوہ سیالکوٹ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، نارووال، چنیوٹ، قصور اورگجرات کے اضلاع میں بھی 23 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے سینیئر اہلکار ڈاکٹر محمد حنیف کے مطابق گذشتہ دو روز کے دوران لاہور میں پانچ سو ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جس کی وجہ سے بارشوں کا 22 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

لاہور میں بی بی سی اردو کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق صوبے میں بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے کابینہ کی دو کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں جن میں سے ایک لاہور جبکہ دوسری پنجاب کے دوسرے شہروں میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرے گی۔

وزیرِ اعلیٰ نے صوبائی وزرا اور سیکریٹریوں کو فیلڈ میں موجود رہنے اور متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگانے کی ہدایات کے علاوہ کسی بھی علاقے سے انخلا کی صورت میں آبادی کو رہائش اور کھانا فراہم کرنے اور متاثرین کے مویشیوں کے لیے چارے کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتِ حال میں امدادی کاموں میں حصہ لیے کے لیے فوج کو الرٹ کر دیا گیا ہے

لاہور میں مسلسل بارش کے باعث کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا ہے۔ نکاسی آب کے لیے انتظامات کے باوجود شدید بارش کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی کھڑا ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔

بارش کے باعث جگہ جگہ ٹریفک جام ہے اور شہر میں سو کے قریب فیڈر ٹرپ ہوجانے سے بجلی کی بندش سے بھی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بارشوں کی وجہ سے پنجاب کے دیہی علاقوں میں سینکڑوں ایکٹر زرعی اراضی بھی زیرآب آگئی ہے اور فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔

پاکستان کی سرکاری ٹیلی ویژن نے فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان فوج کو بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتِ حال میں امدادی کاموں کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پنجاب کے علاقوں سیالکوٹ، ناروال، ہیڈ مرالہ، وزیر آباد اور جلال پور جٹاں میں فوج بھیج دی گئی ہے جبکہ لاہور کے قریب شاہدرہ میں بھی فوج کو امدادی کارروائیوں کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ جمعے کو اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل کی گئی ہے اور کھنہ پل اور ترلائی کے علاقوں سے 50 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

کشمیر میں تباہی، سیلاب کی صورتحال

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بارشوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 36 ہوگئی ہے۔

مقامی محکمہ ریسکیو نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ مظفر آباد کا زمینی راستہ تمام علاقوں سے کٹ گیا ہے۔

ایس ڈی ایم اے کے بیان کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں سدھنوٹی کے علاقے میں ہوئیں جہاں بارش سے متعلقہ حادثات میں 12 افراد مارے گئے جبکہ اس کے علاوہ کوٹلی اور حویلی میں سات، سات، راولاکوٹ میں چار، بھمبر میں تین، باغ میں دو اور میر پور میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے باغ میں بارش کے باعث مٹی کا تودہ گرنے سے پاکستانی فوج کے تین اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے

کشمیر میں بارش سے ایک ہزار سے زیادہ مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ مویشیوں کی بڑی تعداد بھی ماری گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر محمد حنیف کے مطابق گذشہ چند روز کے دوران پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مختلف مقامات سے 600 ملی میٹر جبکہ راولاکوٹ اور اس کے نواحی علاقوں میں 400 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے

لاہور اور اس کے اردگرد اب تک 280 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے جو معمول سے 100 فیصد زیادہ ہے اور لاہور شیخوپورہ قصور نارووال گجرات سیالکوٹ اور گجرانوالہ میں اگلے چوپیس گھنٹوں کے دوران مزید موسلادھار بارشیں ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفانی بارشوں کے باعث اس وقت دریائے چناب میں مختلف مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور منڈی بہاؤالدین کے قریب قادر آباد کے مقام پر پانی کی سطح انتہائی اونچی ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ گجرات اور سیالکوٹ میں دریا کے ادرگرد کی آبادیوں کو خالی کروا کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ جبکہ کئی جگہوں پر امدای کاروائیوں میں مدد کے لیے فوج کو بھی طلب کیا جاچکا ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگلے دو سے تین روز کے دوران سات لاکھ کیوسک کا ایک اور ریلا دریائے چناب سے گزرے گا۔ جس سے دریا کے ارد گرد کے علاقوں کے زیر آب آنے کا امکان ہے۔

دریائے چناب کے علاوہ بالائی پنجاب کے تمام ندی نالوں خصوصا گوجرانوالہ ڈویژن میں نالہ ایک، نالہ ڈیک اور نالہ پلکو میں طغیانی کا امکان ہے۔

اسی بارے میں