پیپلز پارٹی کی چوہدری نثار پر سخت تنقید، وزیر اعظم کی معذرت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’رات میں نے اسی وقت خورشید شاہ اور اعتزاز احسن بات کی اور ان سے افسوس اور معذرت کی، اور میں اس وقت بھی اعتزاز احسن سے معذرت کرتا ہوں‘

ملک میں موجودہ صورتحال پر بحث کے لیے بلائے گئے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جمعے کو حکومت کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب حزب اختلاف نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے سینیٹر اعتزاز احسن پر لگائے گئے الزامات پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف اعتزاز احسن پر لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’چوہدری نثار اس ایوان میں آ کر معافی مانگیں‘۔

چاہوں تو پارلیمنٹ ختم کردوں: اعتزاز

’چوہدری نثار اس ایوان میں آ کر معافی مانگیں‘

انھوں نے وزیرِ اعظم سے درخواست کی کہ ’ہم آپ کو کمزور نہیں کرنا چاہتے، مگر یہ درخواست کرتے ہیں کہ اس ایوان کے ارکان کی لاج رکھی جائے۔‘

خورشید شاہ نے کہا کہ ’صرف اعتزاز احسن کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ تمام حزبِ اختلاف کا مسئلہ ہے، کیوں کہ اس ایوان کے ایک ایک فرد کی دل آزاری ہوئی ہے۔ ایک شخص نے پورے ایوان کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔‘

ایل پی جی کے کوٹے سے لے کر پراپرٹی ٹائیکون کے جہازوں کے استعمال تک کی ایک لمبی کہانی ہے

اس موقعے پر وزیر اعظم نواز شریف کھڑے ہوئے اور انھوں نے چوہدری نثار کی جانب سے اعتزاز احسن پر لگائے گئے الزامات پر معذرت کی۔

انھوں نے کہا کہ ’رات میں نے اسی وقت خورشید شاہ اور اعتزاز احسن بات کی اور ان سے افسوس اور معذرت کی، اور میں اس وقت بھی اعتزاز احسن سے معذرت کرتا ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ اعتزاز احسن میرے ساتھی ہیں اور ان سے تعلق رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے سامنے ایک بڑا مسئلہ ہے، ہمیں ادھر ادھر کی باتوں میں الجھنا نہیں چاہیے۔

نواز شریف نے کہا کہ مجھے اس بات کی واقعتاً بڑی تکلیف ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کل رات بھی ایک ہلکی سی جھڑپ ہوئی تھی جسے ہمارے ساتھیوں نے بیچ میں پڑ کر معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔

وزیر اعظم نواز شریف کے خطاب کے بعد چوہدری اعتزاز احسن نے پارلیمان کے مشترکہ ایوان سے خطاب کے دوران حکومتی بینچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دو بار پہلے آپ کا یہی انجام ہو چکا ہے جسے ہم روک کر بیٹھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں اس وقت ایوان سے واک آؤٹ کروں تو تمام حزبِ اختلاف میرے ساتھ واک آؤٹ کرے گا، صرف شاید محمود اچکزئی رہ جائیں!

انھوں نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو دھرنے کے خلاف تمام مزاحمت ختم کر کے اس پارلیمان کو ختم کر دوں۔

انھوں نے وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب دھرنوں کا آغاز ہوا تھا تو آپ کے وزیروں کے چہروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ جیسے ان پر آسمان ٹوٹنے والا ہو۔ لیکن اب وہ عمران خان اور قادری کی نقلیں اتارتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب ایوان کی طاقت ہے، اور پارلیمنٹ آپ کے پیچھے کھڑی ہے۔

چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ ’جنابِ وزیرِ اعظم صاحب جو لوگ آپ کو چھوڑ چکے ہیں ان کے بارے میں آپ کب تک معذرتیں پیش کرتے رہیں گے؟‘

اعتزاز احسن نے کہا کہ مجھ پر گھٹیا الزام لگایا گیا ہے۔ انھوں نے وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے کہا کہ گھر کو آگ لگانے والے آپ کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں