سیاسی صورتحال، چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption چین کے صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران مختلف منصوبوں پر 34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق معاہدوں پر دستخط ہونا تھے

پاکستان کے دفترِ حارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کی باہمی مشاورت سے چین کے صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان ملتوی ہو گیا ہے۔

صدر شی جن پنگ نے رواں ماہ پاکستان کے دورے پر آنا تھا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان کی نئی تاریخوں کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ چینی صدر کے دورے کی نئی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی چین کے صدر کے دورۂ پاکستان کے التوا کی تصدیق کی تھی اور تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے سربراہان کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا ہے کہ ’مبارک ہو! عمران خان اور طاہر القادری ، چین کے صدر کا دورہ منسوخ ہوگیا ہے۔ ان کی وجہ سے پاکستان کو سب سے بڑا سفارتی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ ہمارے لیے باعثِ شرم ہیں۔‘

خیال رہے کہ تحریکِ انصاف کے رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ چینی صدر کے دورے میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور ان کے حامی چین کے صدر کا استقبال کریں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد میں تعینات چین کے سفیر سے مل کر سفارش کریں گے کہ چینی صدر کے دورے کو یقینی بنانے پر بات کی جائے گئی ’ان کا کہنا تھا کہ ہم اس دورے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ ‘

وفاقی حکومت کے مطابق چین کے صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران مختلف منصوبوں پر 34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق معاہدوں پر دستخط ہونا تھے۔

گذشتہ ماہ ہی وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ چین نے پاکستان میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے آئندہ چار برس کے دوران ملک میں دس ہزار میگاواٹ سے زیادہ کے بجلی گھروں کی تعمیر کو ترجیحی بنیادوں پر مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں