کراچی: شیعہ عالم علامہ اکبر کمیلی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شیعہ علما کے قریبی رشتے داروں کو اس سے پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے

کراچی میں ایک قاتلانہ حملے میں شیعہ عالم علامہ اکبر کمیلی ہلاک ہوگئے ہیں، وہ نامور دینی عالم علامہ عباس کمیلی کے فرزند تھے۔

یہ واقعہ وسطی شہر کے علاقے عزیز آباد بھنگوریا گوٹھ کے نزدیک سنیچر کی شام سات بجے کے قریب پیش آیا۔

پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ایک کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں علامہ اکبر سمیت دو افراد زخمی ہوگئے جنھیں عباسی شہید ہپستال منتقل کیا گیا جہاں علی اکبر زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگئے۔

ایس ایس پی وسطی مقدس حیدر نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے علامہ علی اکبر کر پیچھا کیا اور انھیں ٹارگٹ کرکے نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ شیعہ علما کے قریبی رشتے داروں کو اس سے پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

کچھ عرصہ قبل نامور ذاکر علامہ طالب جوہری کے داماد کو گلستان جوہر میں فائرنگ کرکے ہلاک کیاگیا جبکہ اس سے چند سال قبل علامہ حسن ترابی کے داماد کو بھی قتل کیا گیا تھا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا کہنا ہے کہ علامہ علی اکبر کمیلی پر حملہ نے سندھ حکومت کے قیام امن کے دعووؤں کی قلی کھول دی ہے۔ سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی میں دہشت گردی کی روک تھام میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سندھ حکومت مکمل طور پر اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے ٹارگٹڈ آپریشن کے خاتمے کا اعلان کرے اور کراچی کو فوج کے حوالے کیا جائے۔

ادھر شیعہ آبادی کے اکثریتی علاقوں رضویہ، جعفر طیار سوسائٹی، نمائش چورنگی پر کاروبار بند ہوگیا ہے۔

علامہ اکبر کمیلی کی میت شاہ خراساں امام بارہ منتقل کی جا رہی ہے۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی کے صاحبزادے علی اکبر کمیلی کے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اسی بارے میں