’درگزر کرتا ہوں لیکن قوم کے سامنے سچ آنا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption باہر کے جھگڑوں کو پارلیمان میں نہ لانے کی روایت پڑنی چاہیے:چوہدری نثار علی خان

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف بیرسٹر اعتزاز احسن کو ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایک کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے۔

سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگرچہ انھوں نے اپنی عزتِ نفس کو ایک طرف رکھتے ہوئے جمعے کو اسمبلی میں پیش آنے والے واقعات کو درگزر کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن قوم کے سامنے سچ آنا بھی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے تاریخی بحث ایک طرف رہ گئی اور وہ خود موضوعِ بحث بن گئے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ انھوں نے نہ پیپلز پارٹی پر تنقید کی اور نہ ہی اپوزیشن پر بلکہ جو بیان دیا وہ اعتزاز احسن کے اس بیان کا ردعمل تھا جو ان کے بارے میں دیا گیا تھا۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اعتزاز احسن نے بھی بیان پارلیمان کے باہر دیا اور انھوں نے بھی اس کا جواب باہر ہی دیا اور باہر کے جھگڑوں کو پارلیمان میں نہ لانے کی روایت پڑنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان سے باہر نوک جھوک جاری رہتی ہے اسے پارلیمان میں نہیں لایا جاتا اور اگر آپ نہیں چاہتے کہ آپ کو جواب دیا جائے تو بیان ہی نہ دیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جب ان کے بارے میں پارلیمان میں بات کی گئی تو وہ پارلیمان کے اندر ہی جواب دینا چاہتے تھے کیونکہ ’پارلیمانی روایات میں ہر رکن کو جواب کا حق ہوتا ہے۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں کسی کا قرض نہیں چھوڑتے اور ’کوئی میری جماعت پر یا مجھ پر حملہ کرے گا تو جواب آئے گا اس بارے میں کسی کو حساس ہونے کی ضرورت نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم سمیت مسلم لیگ ن کی سینیئر قیادت انھیں 30 گھنٹے سے قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ معاملات کو ٹھنڈا کریں۔

تاہم انھوں نے سب کو بتایا ہے کہ ان کا ’ضمیر مفاد کے تابع نہیں‘ اور انھوں نے سیاست ساری عمر اصول پر اور عزت کے لیے کی ہے۔

چوہدری نثار نے خود کو وزیراعظم کے سامنے ان کا سب سے بڑا نقاد ہونا اور پیٹھ پیچھے ان کا سب سے بڑا حامی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ’ایک طرف عزتِ نفس تھی، دوسری طرف ملک کا مستقبل‘ اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کی ذاتی سوچ، جذبات اور نظریہ اہم نہیں بلکہ وزیراعظم اور پارٹی کی اجتماعی سوچ اہم ہے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ’میں اپنی عزتِ نفس کو ایک طرف رکھتے ہوئے کل کے واقعات درگزر کرتا ہوں‘ تاہم ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ ان کے بھائی کو جو اب اس دنیا میں نہیں نشانہ بنایا گیا اس لیے ان کی تشفی نہیں ہو سکتی۔

انھوں نے کہا کہ ’جو کچھ کل ہوا میری طرف سے معاملہ ختم ہوا۔ لیکن قوم کے سامنے سچ آنا چاہیے کہ کون سچ بول رہا ہے کون جھوٹ۔‘

چوہدری نثار نے تجویز دی کہ اعتزاز احسن کی کل کی تقریر کو ایف آئی آر تصور کر لیا جائے اور ’وہ ایک، دو ، تین ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیٹی بنا لیں۔ میں خود پر لگائے گئے الزامات کا دفاع کروں گا اور وہ بھی یہیں کریں۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان پر عائد کردہ الزامات میں سے ایک فیصد بھی حقیقی ثابت ہوئے تو وہ وزارت سے ہی نہیں سیاست سے بھی ریٹائر ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ بیرسٹر اعتزاز احسن نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں چوہدری نثار کا نام لیے بغیر ماضی میں ان کے سیاسی کردار پر تنقید کی تھی جس کے جواب میں چوہدری نثار نے ان پر ایل پی جی کا کوٹہ لینے اور لینڈ مافیا کی وکالت کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

اس پر وزیراعظم پاکستان نے جمعے کو اسمبلی کے اجلاس میں اعتزاز احسن اور پیپلز پارٹی سے معذرت بھی کی تھی تاہم اعتزاز احسن اور خورشید شاہ کا اصرار تھا کہ چوہدری نثار سے ذاتی طور پر معذرت کریں۔

اسی بارے میں