پنجاب اور سندھ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں ہونے والی شدید بارشوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 200 سے زیادہ افراد زخمی ہیں

پاکستان میں محکمۂ موسمیات نے آئندہ چند دنوں میں پاکستان کے میدانی علاقوں میں ’انتہائی اونچے درجے کے سیلاب‘ کی پیش گوئی کی ہے۔

محکمۂ موسمیات کی ویب سائٹ پر پر بتایا گیا ہے کہ سیلابی ریلوں کی وجہ سے 13 اور 14 ستمبر کے قریب گڈو بیراج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہو گا۔ اس کے علاوہ 14 سے 15 ستمبر کے قریب سکھر بیراج کے قریب بھی یہی صورت حال ہو گی۔

محکمۂ موسمیات نے تمام متعلقہ حکام کو درخواست کی ہے کہ انسانی جانوں اور املاک کو بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر لیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے صوبہ پنجاب، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں گذشتہ چار دن سے ہونے والی شدید بارشوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 200 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کی جانب سے سنیچر کی شام جاری کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق حالیہ بارشوں میں صوبہ پنجاب اور شمالی علاقوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 170 ہو گئی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں بارشوں میں 174 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 400 سے زیادہ مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام صوبوں میں بارشوں سے ہونے والی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ پنجاب میں سب سے زیادہ افراد دارالحکومت لاہور میں مارے گئے جن کی تعداد 20 ہے۔

اس کے علاوہ سیالکوٹ میں 12، اوکاڑہ میں 6، گوجرانوالہ، جہلم، فیصل آباد میں پانچ، پانچ، نارووال اور راولپنڈی میں چار چار، قصور اور سرگودھا میں دو، دو جبکہ چنیوٹ، شیخوپورہ، منڈی بہاؤالدین اورگجرات کے اضلاع میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بارشوں میں لگ بھگ 150 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 650 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں

ادھر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ سنیچر کو مزید 12 ہلاکتوں کے بعد اب کشمیر میں بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور گھروں کی چھتیں گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 48 تک پہنچ گئی ہے۔

اہلکار کے مطابق یہ 12 افراد حویلی کے علاقے میں ہلاک ہوئے جہاں اب ہلاکتوں کی کل تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے۔

اس کے علاوہ سدھ نوتی میں 12، کوٹلی میں سات، راولاکوٹ میں چار، بھمبر میں تین، باغ میں دو اور میرپور میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔

ایس ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مکمل اور جزوی طور پر تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد 3,700 سے تجاوز کر گئی ہے۔

مقامی صحافی مرزا اورنگزیب جرال کے مطابق کشمیر کو اسلام آباد سے ملانے والی سڑک اب بھی بند ہے۔ تاہم مظفر آباد سے ایبٹ آباد جانے والا راستہ چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

صوبہ پنجاب میں بارش سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کابینہ کی دو کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں جن میں سے ایک لاہور جبکہ دوسری پنجاب کے دوسرے شہروں میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا دارالحکومت مظفر آباد کا زمینی راستہ دیگر علاقوں سے اب بھی منقطع ہے

وزیرِ اعلیٰ نے صوبائی وزرا اور سیکریٹریوں کو فیلڈ میں موجود رہنے اور متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگانے کی ہدایات کے علاوہ کسی بھی علاقے سے انخلا کی صورت میں آبادی کو رہائش اور کھانا فراہم کرنے اور متاثرین کے مویشیوں کے لیے چارے کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔

لاہور میں مسلسل بارش کے باعث کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا ہے۔ نکاسی آب کے لیے انتظامات کے باوجود شدید بارش کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی کھڑا ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔

بارش کے باعث جگہ جگہ ٹریفک جام ہے اور شہر میں سو کے قریب فیڈر ٹرپ ہوجانے سے بجلی کی بندش سے بھی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بارشوں کی وجہ سے پنجاب کے دیہی علاقوں میں سینکڑوں ایکٹر زرعی اراضی بھی زیرآب آگئی ہے اور فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔

اسی بارے میں