تریموں بیراج کو خطرہ، حفاظتی بند میں شگاف ڈالنے پرغور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ۔۔۔سیلاب سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں سب سے زیادہ مکانات متاثر ہوئے ہیں

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق صوبہ پنجاب میں سیلابی ریلے سے اہم آبی تنصیبات کو بچانے کے لیے ضرورت پڑنے پر دریائے چناب پر واقع تریموں بیراج سے پہلے حفاظتی بند میں شگاف ڈالنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ممکنہ شگاف کی وجہ سے پہلے ہی ان علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا جا چکا ہے۔

این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تمام توجہ ہیڈ قادر آباد کے بعد جھنگ کے قریب واقع تریموں بیراج پر ہے جہاں سے پیر کی منگل درمیانی شب تک آٹھ سے نو لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس صورتحال میں زیادہ سے زیادہ چھ لاکھ چالیس ہزار کیوسک پانی کی صلاحیت کے ہیڈ تریموں کو بچانے کے لیے اس کے قریب واقع حفاظتی پشتے میں شگاف ڈالا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انتظامیہ نے پہلے ہی ممکنہ شگاف کی صورت میں متاثر ہونے والی آبادیوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں کتنی آبادی متاثر ہو گی اس کے بارے میں بتانا ابھی مشکل ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ڈیزائن کے مطابق ہیڈ تریموں سے چھ لاکھ چالیس ہزار کیوسک پانی گزر سکتا ہے لیکن یہاں سے سات سے آٹھ لاکھ کیوسک پانی گزرنے کا امکان ہے۔

احمد کمال کے مطابق آبپاشی کے موجودہ نظام میں ہر بیراج اور ہیڈ ورکس سے پہلے حفاظتی پشتوں میں مخصوص مقامات کی نشاندہی کی جاتی ہے اور وہاں ضرورت پڑنے پر بند کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جاتا ہے۔

سیلاب سے نقصانات

پنجاب میں سیلاب سے 534 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے جبکہ 36 مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ اس کے علاوہ صوبے میں 28231 ایکٹر پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ 286 گاؤں متاثر ہوئے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 3479 مکانات جزوی طور پر جبکہ 1693 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ 13 گاؤں متاثر ہوئے ہیں اور 820 ایکٹر فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’تریموں کے بعد سیلابی ریلا پنجند سے گزرنے کے بعد دریائے سندھ میں داخل ہو گا لیکن اس وقت انتظامیہ کی تمام توجہ تریموں بیراج پر ہے۔‘

این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بتایا کہ سیلاب سے اب تک 22 اضلاع متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 181 ہے جبکہ 343 زخمی ہیں۔

ہلاک ہونے والے افراد میں سے 108 پنجاب میں، پاکستان کے زیرانتظام کمشیر میں 62 اور شمالی علاقے گلگت بلتستان میں 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس وقت سیلاب سے متاثرہ علاقے سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ سے لے کر حافظ آباد کے ہیڈ قادر آباد تک ہیں اور ان علاقوں میں پاکستان کی فوج کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ان میں پانچ ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب محکمۂ موسمیات کے سینیئر اہلکار محمد حنیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بارشوں کے سلسلے میں گذشتہ چند برس میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں گذشتہ چند سالوں سے موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے بے موسم بارشیں ہو رہی ہے

’مون سون کی 80 فی صد بارشیں جولائی اور اگست میں ہوتی تھیں لیکن اب یا تو مون سون سسٹم کے آغاز پر ہی معمول سے بہت زیادہ بارشیں ہو جاتی ہیں یا اس کے اختتام پر۔ اس کی مثال لاہور کی ہے جہاں ستمبر میں 110 ملی میٹر بارشیں ہوتی تھیں لیکن اب تین دن میں 500 ملی میٹر تک بارشیں ہو گئیں جو معمول سے تین گنا زیادہ ہیں۔ اور یہی صورتحال ملک کے بالائی علاقوں میں پیش آئی، جس کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔‘

پاکستان میں بے وقت کی بارشوں سے فصلوں کو ہونے والے نقصانات اور خوراک کی کمی کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد حنیف نے کہا کہ اگر بارشیں معمول کے مطابق ہوں تو فصلیں اچھی ہوتی ہیں لیکن موجودہ صورتحال سے فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

’ابھی جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے وہاں چاول کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ جب سیلابی ریلہ جنوبی پنجاب اور سندھ کی جانب بڑھے گا تو وہاں کپاس کی فصل کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور چند سالوں سے جاری موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے آئندہ آنے والے برسوں میں فوڈ سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں