سیلابی صورتحال سندھ میں 45 مقامات حساس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سندھ کے بحالی اور آفات کی انتظام کاری کے محکمہ نے ایک تحریری الرٹ جاری کیا ہے جس میں سترہ اضلاع کی انتظامیہ کو متنبہ کیا گیا ہے

صوبہ سندھ میں اگلے دو ہفتوں میں گڈو اور سکھر بیراج کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے، جہاں سے محکمۂ آبپاشی کے مطابق سات لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا گزر ہوسکتا ہے۔

سندھ کے بحالی اور آفات کی انتظام کاری کے محکمہ نے ایک تحریری الرٹ جاری کیا ہے جس میں 17 اضلاع کی انتظامیہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ دریائے سندھ کے کچے سے لوگوں کے انخلا کی پیشگی منصوبہ بندی کرلیں اور لوگوں کو محفوظ جگہ تک پہنچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹرانسپورٹ کا بندوسبت کیا جائے۔

بحالی اور آفات کی انتظام کاری کے محکمہ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ کچے کے لوگوں کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے بروقت اعلان کا بھی انتظام کیا جائے اور اس سلسلے میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

بحریہ، فضائیہ اور بری فوج کو الرٹ رہنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ بوقت ضرورت لوگوں کے انخلا میں ان کی مدد حاصل کی جاسکے۔

متعلقہ اضلاع میں محکمہ صحت کے تمام مراکز میں سانپ کے کانٹے کے بچاؤ کی ویکسین سمیت تمام ادویات کی موجودگی کو یقین بنانے اور محکمہ لائیو اسٹاک کو جانوروں کے چارہ کا بندوبست رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی یعنی سیڈا کے ایم ڈی زاہد جونیجو کا کہنا ہے کہ 10 ستمبر سے 15 ستمبر تک اونچے درجہ کا سیلاب رہے گا، امکان تو سات لاکھ کیوسک سے زائد پانی کی آمد کا ہے لیکن تیاری سپر فلڈ کی ہے۔

دریائے سندھ کے بائیں اور دائیں جانب حفاظتی بندوں پر 45 مقامات کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے، جہاں پتھروں کی پچنگ سے حفاظتی بندوں کو مضبوط کرنے اور 24 گھنٹے گشت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایم ڈی سیڈا زاہد جونیجو کا کہنا ہے کہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں پہلے بھی شگاف پڑ چکے ہیں ، جہاں دریا ڈائریکٹ حفاظتی بند کو ہٹ کرتا ہو ، کوئی بند کمزور ہو یا وہاں سے کوئی کراسنگ ہو۔

محکمہ آبپاشی کے مطابق سکھر اور گڈو بیراج کے درمیان پانی کا دباؤ رہے گا، اس کے درمیان میں ٹوڑھی اور قادر پور حفاظتی بند زیادہ حساس ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2010 میں ٹوڑھی بند کو شگاف پڑنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بحریہ، فضائیہ اور بری فوج کو الرٹ رہنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ بوقت ضرورت لوگوں کے انخلا میں ان کی مدد حاصل کی جاسکے

گڈو بیراج سے پانی کے انخلا کی گنجائش بارہ لاکھ کیوسک ہے جبکہ دو ہزار دس کے سیلاب میں یہاں سے ساڑھے گیارہ لاکھ کیوسک پانی کا گزر ہوا تھا اسی طرح سکھر بیراج سے انخلا کی گنجائش نو لاکھ کیوسک ہے اور سپر فلڈ میں یہاں سے ساڑھے گیارہ لاکھ کیوسک پانی کا گذر ہوا تھا۔

بلوچستان کے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان سے آنے والے برساتی پانی اور موسلا دھار بارش نے سنہ 2010 میں سندھ میں صورتحال کو سنگین کردیا تھا، سندھ میں محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے ہفتے بارشوں کا امکان موجود ہے۔

سنہ 2010 کے سپر فلڈز کے بعد سندھ میں ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی بندوں کی مرمت کا کام کیا گیا تھا، لیکن اگلے تین سال سیلابی صورتحال کا سامنا نہیں ہوا۔

ٹوڑھی بند کے قریبی گاؤں کے لوگوں نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بندوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں