’فاٹا میں تعلیم کے لیے سیٹلائیٹ کیمپس قائم کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’اگر عہدہ برقرار رہا تو اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی ترقی اور قبائلی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے ضرور کام کروں گا‘

پروفیسر اجمل خان نے طالبان کی قید سے بازیاب ہونے کے بعد منگل کو اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو عہدہ باقاعدہ طور پر دوبارہ سنبھال لیا ہے۔

پروفیسر اجمل خان نے کہا ہے کہ اب حکومت کی مدد سے قبائلی علاقوں میں تعلیم کی فروغ کے لیے سیٹلائیٹ کیمپس قائم کریں گے۔

یونیورسٹی میں تدریسی عملے ، طلباء طالبات اور دیگر تمام عملے نے ان کا استقبال کیا۔

پروفیسر اجمل نے اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چار سالہ اغوا کے دور میں انھوں نے یہی محسوس کیا کہ قبائلی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کی بہت ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ قبائلی علاقے میں اغوا اور واپسی کے واقعے کو جانا اور آنا کہیں گے اور ان جو چار سال انھوں نے وہاں گزارے یہی سوچتے رہے کہ اگر بخیریت واپس چلے گئے اور ان کا عہدہ برقرار رہا تو وہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی ترقی اور قبائلی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے ضرور کام کریں گے۔

پروفیسر اجمل خان نے کہا کہ ان کے اغوا سے پہلے قبائلی علاقوں میں سیٹلائیٹ کیمپس قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر کرم یونیورسٹی کا اعلان کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ انھیں ابھی معلوم ہوا ہے کہ کرم ایجنسی کے لیے حکومت نے فنڈز جاری کر دیے ہیں جبکہ حکومت سے درخواست کریں گے کہ شمالی وزیرستان ایجنسی اور دیگر قبائلی علاقوں میں سیٹلائیٹ کیمپس قائم کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

اجمل خان نے کہا کہ وہ اغوا کے دوران سکول کے بچوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ ابتداء میں دو بچے تھے جو دوسری اور چوتھی جماعت میں پڑھتے تھے اور ان بچوں کا کہنا تھا کہ یہاں جنگ کی حالت ہے سکولوں میں استاد نہیں آتے تو انھوں نے بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا تھا۔

اجمل خان کے مطابق انھوں نے دو بچوں کو پڑھانا شروع کیا تھا اور کچھ ہی عرصے میں ان کی تعداد بتیس سے زیادہ ہو گئی تھی۔

پروفیسر اجمل خان کو ان کے ڈرائیور کے ہمراہ ستمبر سنہ دو ہزار دس میں اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ گھر سے دفتر جا رہے تھے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے ان کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان کی بازیابی کے لیے حکومت کی جانب سے کوششیں کی گئی تھیں۔ پروفیسر اجمل خان کو گزشتہ ماہ رہا کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں