چین قرض نہیں دے رہا، سرمایہ کاری کر رہا ہے: خواجہ آصف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’عمران خان کو الزامات لگانے سے پہلے تصدیق کر لینی چاہیے‘

وفاقی وزیر برائے دفاع اور پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ چین پاکستان کو 34 ارب ڈالر قرض نہیں دے رہا بلکہ وہ پاکستان میں براہ راست سرکایہ کاری کرے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں خواجہ آصف نے عمران خان کے اس دعوے کی تردید کی کہ حکومت چین سے 34 ارب ڈالر کا قرض لے رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ چین تین بینکوں کی مدد سےاپنی کمپینوں کو سرمایہ فراہم کرے گا۔

وفاقی وزیر نے منصوبوں پر عمران خان کے اعتراضات پر تفصیلی جواب میں کہا کہ عمران خان کو الزامات لگانے سے پہلے تصدیق کر لینی چاہیے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ میاں منشا کا 34 ارب ڈالر کی منصوبہ بندی سے کوئی تعلق نہیں۔

خواجہ آصف نے اس خبر کی بھی تردید کی کہ حکومتوں نے اربوں روپے قرض لیا ہے: ’ہم ہر وقت احتساب کے لیے تیار ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے لیے چینی کوئلے کا استعمال نہیں ہوگا بلکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں عالمی مارکیٹ سے کوئلہ برآمد کریں گی۔

انھوں نے بتایا کہ ان منصوبوں سے دس ہزار 400 میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔

وزیربرائے پانی و بجلی نے یہ بھی وضاحت کی کہ نیپرا کے قوانین میں کوئی ترمیم نہیں کی گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کی جانب سے عوام سے سول نافرمانی کی اپیل کی گئی تھی اور کہا تھا کہ وہ بجلی وگیس کے بل اور ٹیکس ادا نہ کریں۔ تاہم خواجہ آصف کے مطابق عمران خان نے بجلی کے دونوں بل ادا کر دیے ہیں۔

اسی بارے میں