وہاڑی میں چار نومولود بچے ہلاک

Image caption کہا جا رہا ہے کہ بچوں کی ہلاکت آکسیجن کی فراہمی رک جانے کے سبب ہوئی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر وہاڑی میں ڈسٹرکٹ ہسپتال کے تحت کام کرنے والے چلڈرن ہسپتال میں گذشتہ دو دنوں میں آٹھ نومولود بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔

منگل کی صبح چار نومولود بچے ہلاک ہوئے۔

بچوں کے لواحقین اسے عملے کی غفلت قرار دے رہے ہیں اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وہاڑی کے ضلعی ہسپتال کے چلڈرن کمپلیکس میں سوموار کو بھی چار نومولود بچوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ منگل کی صبح ہلاک ہونے والے چار بچوں کے لواحقین نے ان ہلاکتوں کا ذمہ دار ڈاکٹروں اور ڈیوٹی پر موجود نرسوں کو قرار دیا ہے۔

لواحقین سراپا احتجاج تھے اور ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی ہلاکت آکسیجن کی فراہمی رک جانے کے سبب ہوئی۔

کاشف عزیز کے ہاں پہلی بچی کی ولادت ہوئی تھی اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی بچی کی حالت اتنی خراب نہیں تھی کہ وہ ہلاک ہو جاتی۔ ان کے بقول ایسا ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر سٹاف کی مجرمانہ غفلت کے سبب ہوا کیونکہ انھوں نے آکسیجن ختم ہونے کی صورت میں نئی آکسیجن نہیں لگائی۔

انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کی ہلاکت کے ذمہ دار افراد کو سزا ملے۔

وہاڑی کے ڈی سی او جواد اکرم واقعے کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد چلڈرن کمپلیکس پہنچے اور انھوں نے ڈیوٹی پر موجود عملے کو معطل کرنے کے بعد ضلعی سطح پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔

جواد اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں سہولتوں کا فقدان ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ہسپتال میں جو بچے داخل کرائے جاتے ہیں، ان کی حالت کافی تشویشناک ہوتی ہے اور ہلاک ہونے والے ان بچوں کو بھی کافی خراب حالت میں یہاں داخل کرایا گیا۔

ڈی سی او جواد اکرم نے واقعے کے بعد جو کمیٹی تشکیل دی اس کے سربراہ ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر افضل بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شام تک واقعے کی تحقیقات مکمل کر لیں گے اور اگر کوئی بھی قصور وار ہوا تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔

لیکن ان کی تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے وزیر اعٰلی کے مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے سی ایم مانیٹرنگ سیل کے چیئرمین ڈاکٹر عرفان الٰہی کی سربراہی میں ایک اور اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا دی جو لاہور سے وہاڑی شام گئے پہنچی۔جس کے بعد پہلی کمیٹی نے کام ادھورا چھوڑ دیا اور ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کب تک اپنی یہ تحقیقات کب تک مکمل کرے گی۔

اسی بارے میں