پنجاب میں سیلاب سے تباہی، پانچ لاکھ متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبہ سندھ میں دریائے سندھ کے کناروں پر آباد آٹھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا احکامات جاری کیے گئے ہیں

پاکستان اور بھارت میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 231 تک پہنچ گئی ہے اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں صوبہ پنجاب میں ہلاکتوں کی تعداد 131 سے بڑھ کر 156 تک پہنچ گئی ہے جبکہ صوبے میں پانچ لاکھ 51 ہزار 159 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 64 اور شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان میں 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صوبہ پنجاب میں سیلابی ریلا

اس وقت صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں سے سیلابی ریلا گزرتے ہوئے جنوبی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں جھنگ کے قریب تریموں بیراج پر پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس وقت تریموں سے انتہائی اونچے درجے کا سیلاب گزر رہا ہے اور یہاں چھ لاکھ کیوسک کا ریلا پہنچ گیا ہے جس میں آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ یہ سیلابی ریلا 12 ستمبر کو آٹھ لاکھ کیوسک تک پہنچ جائے گا۔

پاکستان کے وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے پارلیمان کے خصوصی اجلاس میں سیلاب کے صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تریموں بیراج پر پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے شگاف ڈالے گئے ہیں جس سے سات لاکھ افراد متاثر ہو رہے ہیں۔

این ڈی ایم کے مطابق پنجاب میں 156 ہلاکتوں کے علاوہ 287 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ تقریباً پانچ لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس وقت صوبے میں 299 امدادی کیمپ قائم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوجی جوانوں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا

آئندہ چند دنوں تک سیلاب صوبہ سندھ میں داخل ہو گا جہاں دریائے سندھ کے کناروں پر آباد آٹھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب دریائے چناب میں سیلاب کے نتیجے میں سیالکوٹ کے قریب واقع ہیڈ مرالہ سے جنوبی شہر جھنگ کے قریب واقع تریموں بیراج کے درمیانی علاقوں میں متاثر ہونے والے لاکھوں افراد تک امداد پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ان امدادی کارروائیوں میں فوج اور سول انتطامیہ حصہ لے رہی ہے جبکہ پانی میں پھنسے ہوئے افراد کو کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ مقامی میڈیا پر نشر کی جانے والی رپورٹوں میں سیلاب سے متاثرین کی بڑی تعداد امداد نہ ملنے کی شکایت کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیراعظم نواز شریف سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کر رہے ہیں۔ سیلاب کے متاثرین سے تقاریر میں ایک طرف وہ بھرپور تعاون اور امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا رہے ہیں، وہیں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کو سیلاب کے متاثرین کی مدد کرنے کی بجائے دھرنے دینے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اسی بارے میں