سندھ میں سیلاب کا خطرہ، آبادی کا انخلا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ سیلاب سے صوبہ پنجاب متاثر ہوا ہے جہاں 131 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور تین لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں سے آٹھ لاکھ افراد کے انخلا کا اعلان کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ آج یعنی منگل سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی محکمے کے ڈائریکٹر جنرل سلمان شاہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کچے کے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

حکام کے دریائے سندھ سے ملحقہ کچے کے علاقے کی 26 لاکھ آبادی ہے، جو گدو سے لے کر کیٹی بندر تک پھیلی ہوئی ہے۔ گدو اور سکھر بیراج کے درمیان آٹھ لاکھ لوگ آباد ہیں جہاں آنے والے دنوں میں پانی کا دباؤ رہے گا۔

سندھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق نوشہرو فیروز سے نیچے دریائے سندھ کی چوڑائی زیادہ ہے اس لیے وہاں سے کوٹری تک پانی کی سطح بلند نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ صوبہ سندھ میں اگلے دو ہفتوں میں گدو اور سکھر بیراج کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے، جہاں سے محکمۂ آبپاشی کے مطابق سات لاکھ کیوسک سے زائد پانی گزر سکتا ہے۔

سندھ میں بحالی اور آفات سے نمٹنے کے محکمے نے دو روز قبل ایک تحریری الرٹ جاری کیا ہے جس میں 17 اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریائے سندھ کے کچے سے لوگوں کے انخلا کی پیشگی منصوبہ بندی کر لیں اور لوگوں کو محفوظ جگہ تک پہنچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹرانسپورٹ کا بندوسبت کیا جائے۔

بحریہ ، فضائیہ اور بری فوج کو الرٹ رہنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ بوقت ضرورت لوگوں کے انخلا میں ان کی مدد حاصل کی جا سکے۔

متعلقہ اضلاع میں محکمہ صحت کے تمام مراکز میں سانپ کے کاٹے سے بچاؤ کی ویکسین سمیت تمام ادویات کی موجودگی کو یقینی بنانے اور محکمہ لائیو سٹاک کو جانوروں کے چارے کا بندوبست رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دریائے سندھ کے بائیں اور دائیں جانب حفاظتی بندوں پر 45 مقامات کو غیرمحفوظ قرار دیا گیا ہے، جہاں پتھروں سے حفاظتی بندوں کو مضبوط کرنے اور 24 گھنٹے گشت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی یعنی سیڈا کے ایم ڈی زاہد جونیجو کا کہنا ہے کہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں پہلے بھی شگاف پڑ چکے ہیں، جہاں سیلابی پانی براہ راست حفاظتی بند سے ٹکراتا ہو، کوئی بند کمزور ہو، یا وہاں سے پانی گزرتا ہو۔

زاہد جونیجو نے کہا کہ دس ستمبر سے 15 ستمبر تک اونچے درجے کا سیلاب رہے گا: ’امکان تو سات لاکھ کیوسک سے زائد پانی کی آمد کا ہے لیکن تیاری سپر فلڈ کی ہے۔‘

محکمۂ آبپاشی کے مطابق سکھر اور گدو بیراج کے درمیان پانی کا دباؤ رہے گا، جب کہ اس کے درمیان میں ٹوڑھی اور قادر پور حفاظتی بند زیادہ حساس ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ کے 17 اضلاع میں سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے

یاد رہے کہ 2010 میں ٹوڑھی بند میں شگاف پڑنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔

گدو بیراج سے پانی کے انخلا کی گنجائش 12 لاکھ کیوسک ہے جبکہ 2010 کے سیلاب میں یہاں سے ساڑھے 11 لاکھ کیوسک پانی گزرا تھا۔ اسی طرح سکھر بیراج سے انخلا کی گنجائش نو لاکھ کیوسک ہے اور سپر فلڈ میں یہاں سے ساڑھے 11 لاکھ کیوسک پانی گزرا تھا۔

بلوچستان کے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان سے آنے والے برساتی پانی اور موسلا دھار بارش نے2010 میں سندھ میں صورتِ حال کو سنگین کر دیا تھا۔

ادھرمحکمۂ موسمیات کے مطابق سندھ میں اگلے ہفتے مزید بارشوں کا امکان ہے۔

2010 کے سپر فلڈ کے بعد سندھ میں ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی بندوں کی مرمت کا کام کیا گیا تھا، لیکن اگلے تین سال سیلابی صورتِ حال کا سامنا نہیں ہوا۔

اسی بارے میں