’بغیر اندرونی مدد کے سکیورٹی حصار نہیں ٹوٹ سکتا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بحریہ کے ڈاک یارڈ میں جنگی بحری جہازوں اور آبدوزوں کی مرمت کی جاتی ہے

پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کراچی میں پاکستانی بحریہ کے ڈاک یارڈ پر ہونے والے حملے میں اندرونی مدد کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلے میں سات گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں چھ ستمبر کو ہونے والے حملے کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ سات کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اس سے قبل پاکستانی بحریہ نے دو حملہ آوروں کی ہلاکت اور چار کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

وزیرِ دفاع نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور زیادہ تفصیلات فراہم کرنے سے انھیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حملہ آور بحریہ کی تنصیبات اور اثاثوں کو نقصان نہیں پہنچا سکے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حملے میں اندرونی مدد کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا اور ’بغیر اندر کی مدد کے حملہ آور سکیورٹی حصار نہیں توڑ سکتے تھے۔‘

خیال رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اس حملے میں اندر سے مدد حاصل تھی۔

وزیرِ دفاع نے بتایا کہ حملہ آوروں میں بحریہ کا ایک سابق افسر بھی تھا جسے مئی 2013 میں فوج سے نکال دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے کراچی میں مہران نیول بیس پر ہونے والے حملے میں بھی بحریہ کے کچھ اہلکار شامل تھے۔

خواجہ آصف نے خیال ظاہر کیا کہ یہ ایک انفرادی واقعہ تھا اور اس کے تانے بانے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے ردعمل سے جوڑے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان کے مختلف علاقوں سے تھا اور ایک حملہ آور کے رابطے شمالی وزیرستان میں بھی تھے۔

انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں سے چار خودکش جیکٹیں، تین کلاشنکوفیں، نو پستول، تین سیٹلائٹ فون اور مذہبی لٹریچر بھی برآمد ہوا۔

خیال رہے کہ پاکستانی بحریہ نے کراچی میں اپنے ڈاک یارڈ پر حملے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کوشش میں ایک افسر ہلاک اور سات اہلکار زخمی ہوئے۔

بحریہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سنیچر کی شب نیوی ڈاک یارڈ پر یہ حملہ کیا گیا، جس میں جوابی کارروائی کے دوران دو مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ چار کو گرفتار کر لیا گیا۔

بحریہ ڈاک یارڈ میں جنگی بحری جہازوں اور آبدوزوں کی مرمت کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد یہ چوتھا بڑا حملہ ہے، اس سے پہلے کراچی ایئرپورٹ، پشاور ایئرپورٹ اور کوئٹہ ایئرپورٹ پر بھی حملے کیے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں