سیلاب: پاکستان اور کشمیر میں 454 ہلاکتیں، لاکھوں متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں پنجاب میں 1500 سے زیادہ دیہات متاثر ہوئے ہیں

پاکستان کے مختلف علاقوں اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ساڑھے چار سو سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔

حکومتِ پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے مطابق منگل کی رات تک صوبے کے مختلف علاقوں سے 179 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ تین سو سے زیادہ زخمی ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 64 رہی اور شمالی علاقے گلگت بلتستان میں 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں اب تک 200 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

صوبہ پنجاب میں سیلابی ریلا

دریائے چناب میں آنے والا بڑا سیلابی ریلا اس وقت صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں سے گزرتے ہوئے جنوبی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق ممکنہ سیلاب کی وجہ سے ملتان اور مظفر گڑھ کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے اور دریا کے قریبی علاقے خالی کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ضلع حافظ آباد اور چنیوٹ میں تباہی مچانے کے بعد اب سیلابی ریلے کا کا رخ جھنگ کی جانب ہے جہاں تریموں کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور یہاں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جھنگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تریموں سے اس وقت پانچ لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی گزر رہا ہے جس میں مزید اضافہ متوقع ہے اور اس کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک نو ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے

تریموں بیراج پر پانی گزرنے کی انتہائی سطح ساڑھے چھ لاکھ کیوسک ہے۔

جھنگ کی تحصیل اٹھارہ ہزاری کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تریموں بیراج کو محفوظ رکھنے کے لیے دریائے چناب پر واقع بند میں شگاف ڈال دیا گیا ہے جس کے بعد پانی اٹھارہ ہزاری اور احمد پور سیال کے قصبات اور ملحقہ دیہات میں داخل ہو رہا ہے۔

جھنگ کے ڈی سی او خرم شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بند توڑے جانے سے مزید 225 دیہات اور چھ سے سات لاکھ کے لگ بھگ افراد متاثر ہوں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پانی کے دباؤ کی وجہ سے دریا کے جھنگ شہر کی طرف والے کنارے میں بھی دو جگہ شگاف پڑ گئے ہیں اور جھنگ کو بھکر سے ملانے والی شاہراہ پر ڈھائی فٹ تک پانی کھڑا ہوگیا ہے۔

نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ جھنگ شہر میں خوف کی فضا ہے اور شہریوں نے رات جاگ کر گزاری ہے۔ شہر سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی بھی کی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک سیلاب سے ضلع جھنگ کا 35 فیصد حصہ زیرِ آب آ چکا ہے اور 350 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق جھنگ میں سیلابی پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے پاکستانی فوج کے پانچ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ 91 کشتیاں کام کر رہی ہیں جن کے ذریعے اب تک 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں 179 ہلاکتوں کے علاوہ 334 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ اس وقت صوبے میں 327 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں منگل کی شام تک پنجاب میں 1500 سے زیادہ دیہات این ڈی ایم اے کے مطابق پانچ لاکھ 51 ہزار 159 افراد متاثر ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پانی کے دباؤ کی وجہ سے دریا کے جھنگ شہر کی طرف والے کنارے میں دو جگہ شگاف پڑ گئے ہیں

ادارے کے مطابق سیلاب سے پانچ لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

آئندہ چند دنوں تک سیلاب صوبہ سندھ میں داخل ہو گا جہاں دریائے سندھ کے کناروں پر آباد آٹھ لاکھ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب دریائے چناب میں سیلاب کے نتیجے میں سیالکوٹ کے قریب واقع ہیڈ مرالہ سے جنوبی شہر جھنگ کے قریب واقع تریموں بیراج کے درمیانی علاقوں میں متاثر ہونے والے لاکھوں افراد تک امداد پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ان امدادی کارروائیوں میں فوج اور سول انتطامیہ حصہ لے رہی ہے جبکہ پانی میں پھنسے ہوئے افراد کو کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک نو ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے تاہم مقامی میڈیا پر نشر کی جانے والی رپورٹس میں سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد امداد نہ ہونے کی شکایت کر رہی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 200 ہوگئی ہے اور سینکڑوں افراد تاحال متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

بی بی سی ہندی کے مطابق بھارت کے زیر انتظام جموں میں ہی ہلاکتوں کی تعداد 193 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سری نگر سمیت دیگر علاقوں میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے وہاں موجود انتطامیہ سے رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

وادی کا مرکزی سری نگر ہوائی اڈہ بھی سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوا ہے اور اس کا شہر سے زمینی رابطہ کٹ گیا ہے۔

کشمیر میں سیلاب سے متاثرہ بعض علاقوں میں امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور ان علاقوں میں پینے کے صاف پانی اور ادویات کی قلت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

اس کے علاوہ سری نگر کی ڈل جھیل میں پانی کی سطح مسلسل متاثر ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں قریبی آبادیوں میں پانی داخل ہونے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں