پاکستان میں سیلاب سے 11 لاکھ سے زائد متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیالکوٹ، حافظ آباد، گوجرانوالا، جہلم، نارووال سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں

پاکستان کے مختلف علاقوں اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ساڑھے چار سو سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔

حکومتِ پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے مطابق بدھ کی رات تک صوبے کے مختلف علاقوں سے 179 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ تین سو سے زیادہ زخمی ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 64 رہی اور شمالی علاقے گلگت بلتستان میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں اب تک 200 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

صوبہ پنجاب میں سیلابی ریلا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کے صوبہ پنجاب اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیلاب سے سوا گیارہ لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں

دریائے چناب میں آنے والا بڑا سیلابی ریلا اس وقت صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں سے گزرتے ہوئے جنوبی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ضلع حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ کے دیہی علاقوں میں تباہی مچانے کے بعد اب سیلابی ریلے کا رخ جنوبی پنجاب میں مظفر گڑھ اور ملتان کی جانب ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق ممکنہ سیلاب کی وجہ سے ملتان اور مظفر گڑھ کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے اور دریا کے قریبی علاقے خالی کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

پاکستان کے قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ سیلابی ریلے سے جھنگ کے قریب واقع تریموں بیراج کو جو خطرہ تھا وہ ٹل گیا ہے۔

’تریموں بیراج کو جو خطرہ تھا وہ ٹل گیا ہے کیونکہ اس کو بچانے کے لیے بند توڑے گئے تھے۔ تریموں بیراج کو بچانے کی قیمت یہ دینی پڑی کہ پنجاب کے پانچ اضلاع میں پانی گیا جہاں ہر ضلع میں ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد متاثر ہوئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان اضلاع میں سیالکوٹ، حافظ آباد، گوجرانوالا، جہلم، نارووال سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیلاب کے باعث ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد 257 ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث متاثر ہونے والوں کی کُل تعداد سوا گیارہ لاکھ ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ریائے چناب میں آنے والا بڑا سیلابی ریلا اس وقت صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں سے گزرتے ہوئے جنوبی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پانی کے دباؤ کی وجہ سے دریا کے جھنگ شہر کی طرف والے کنارے میں دو جگہ شگاف پڑے اور جھنگ کو بھکر سے ملانے والی شاہراہ پر ڈھائی فٹ تک پانی کھڑا ہوگیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک سیلاب سے ضلع جھنگ کا 35 فیصد حصہ زیرِ آب آ چکا ہے اور 350 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

آئندہ چند دنوں تک سیلاب صوبہ سندھ میں داخل ہو گا جہاں دریائے سندھ کے کناروں پر آباد آٹھ لاکھ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 200 ہوگئی ہے اور سینکڑوں افراد تاحال متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

بی بی سی ہندی کے مطابق بھارت کے زیر انتظام جموں میں ہی ہلاکتوں کی تعداد 193 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سری نگر سمیت دیگر علاقوں میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے وہاں موجود انتطامیہ سے رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

وادی کا مرکزی سری نگر ہوائی اڈہ بھی سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوا ہے اور اس کا شہر سے زمینی رابطہ کٹ گیا ہے۔

کشمیر میں سیلاب سے متاثرہ بعض علاقوں میں امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور ان علاقوں میں پینے کے صاف پانی اور ادویات کی قلت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

اس کے علاوہ سری نگر کی ڈل جھیل میں پانی کی سطح مسلسل متاثر ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں قریبی آبادیوں میں پانی داخل ہونے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں