سیاسی مسائل کے پراپرٹی کی مارکیٹ پر اثرات

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سیاسی عدم استحکام اور امن عامہ کی طویل عرصے سے مخدوش حالت نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے

سیاسی عدم استحکام پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کی 67 سالہ زندگی مارشل لا اور کمزور سیاسی حکومتوں سے عبارت ہے۔ کمزور سیاسی حکومتیں اور سیاسی جماعتوں کی آپسی چپقلش کا بعض اوقات خوفناک نتیجہ بھی نکلا ہے۔

پچھلے دو ماہ میں حزب اختلاف کی بعض جماعتوں کی طرف سے داغے گئے بیانات اور حکومت کی طرف سے ضرورت سے زیادہ ردعمل صورتحال کو نازک موڑ پر لے آیا ہے۔ مئی 2013 کے عام انتخابات کے بعد مستحکم سیاسی صورتحال کا تاثر اب بظاہر متزلزل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اسلام آباد میں کئی ہفتوں سے جاری احتجاجی دھرنوں نے سیاسی کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افواج پاکستان نے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کر رکھا ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور امن عامہ کی طویل عرصے سے مخدوش حالت نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

حکومت کی جانب سے مارچ کرنے والوں کو روکنے کے لیے وفاقی دارالحکومت کو کنٹینر کھڑے کر کے سیل کر دیا تھا جس سے کاروباری صورتحال پر اثرات پڑے ہیں۔ اکثر برآمدات کرنے والوں نے شکایت کی ہے کہ سامان کی ترسیل نہ ہونے کی وجہ سے ان کا نہ صرف سامان خراب ہو رہا ہے بلکہ ایکسپورٹس کے آڈرز میں تاخیر آ رہی ہے، جس کی وجہ سے معاہدوں کی رو سے نقصان ان کو برداشت کر نا پڑ رہا ہے۔

ریئل اسٹیٹ مارکیٹ پر اثرات

رواں مالی سال کے بجٹ کے آنے کے بعد ماہ رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہو گیا جس میں جائیداد کا کاروبار روایتی طور پر سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ماہرین توقع کر رہے تھے کہ عید الفطر کے بعد ریئل اسٹیٹ کے کام میں تیزی آئے گی۔ لیکن سیاسی عدم استحکام کی صورتحال نے مندی کا دورانیہ بڑھا دیا۔ پاکستان کے تقریباً تمام سرمایہ کار ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور فی الحال سرمایہ کاری سے اجتناب کر رہے ہیں۔

جائیداد کی خرید و فروخت کی ویب سائٹ زمین ڈاٹ کام سے تعلق رکھنے والے ذیشان علی خان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں سرمایہ کار پہلے صورت حال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں لہٰذا مختصر دورانیے کے لیے اس میں کمی واقع ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ موجود سیاسی بحران ملکی تاریخ کا بدترین بحرانوں میں سے ایک ہے، اس کی وجہ سے ملکی کاروباری معاملات بھی اثر انداز ہوئے ہیں: ’خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن چونکہ اعداد و شمار معمولی ردو بدل کے ساتھ مستحکم ہیں، لہٰذا مارکیٹ کے کریش ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔‘

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

زمین ڈاٹ کام (zameen.com) کے اعداد وشمار حوصلہ افزا نہیں لیکن اطمینان بخش ضرور ہیں۔ لاہور کے بیشتر رہائشی علاقوں کی پراپرٹی نے اس دھچکے کو برداشت کر لیا ہے۔ ماڈل ٹاون میں بھی پراپرٹی کی قیمتیں مستحکم ہیں۔ یہیں 17جون 2014 کو طاہر القادری کی جماعت عوامی تحریک کے14 کارکن ہلاک ہوئے تھے۔

اسلام آباد کی پراپرٹی کی مارکیٹ 2014 میں تصحیح کے عمل سے گزر رہی ہے اور یہاں آسمانوں کو چھوتی ہوئی قیمتیں آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کے مرکز کراچی میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال رہی۔ نو جون کو کراچی ایئر پورٹ پر ہونے والے حملے اور بعد کے واقعات نے پراپرٹی پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا۔

مزید کیا ہو سکتا ہے؟

ایک اور ادارے غنی اسٹیٹ کے نواز غنی کا کہنا ہے کہ 2013 کی پراپرٹی مارکیٹ 2014 کی پراپرٹی مارکیٹ سے بہتر تھی۔ 2014 میں مارکیٹ نسبتاً سست ہے لیکن یہ امید کی جا رہی ہے کہ حالات کے بہتر ہونے پر آگے چل کر مارکیٹ میں تیزی آ جائے گی۔

پاکستان میں اس وقت سیاسی طور پر غیریقینی کی صورت حال ہے۔ حالات جو بھی کروٹ بدلتے ہیں، اس کا اثر کاروبار پر ضرور ہوگا۔

اسی بارے میں