نبیل بلوچ کا اغوا، سندھ حکومت کو نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption ماہ پارہ بلوچ کے مطابق نبیل بلوچ انٹر پاس ہیں ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں

سندھ ہائی کورٹ نے بلوچستان کے سابق رکن اسمبلی اور قائد حزب اختلاف کچکول علی کے نوجوان بیٹے نبیل بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف درخواست پر صوبائی سیکریٹری داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس شوکت میمن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے بدھ کو کو یہ نوٹس نبیل بلوچ کی بہن ماہ پارہ بلوچ کی درخواست پر جاری کیے ہیں۔

بدھ کو سماعت کے موقعے پر ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایس ایچ او لی مارکیٹ پیش ہوئے، لیکن ہوم سیکریٹری اور ڈی جی رینجرز کی جانب سے کوئی پیروی نہیں ہوئی جس پر عدالت نے فریقین سے 12 ستمبر کو جواب طلب کیا گیا ہے۔

درخواست گزار ماہ پارہ بلوچ کا موقف ہے کہ ان کا بھائی 30 اگست کو لی مارکیٹ سے گھر آ رہا تھا کہ سفید رنگ کی گاڑی میں سوار افراد اس کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ انھوں نے تمام پولیس تھانوں سے معلوم کیا لیکن ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

ماہ پارہ بلوچ کے مطابق نبیل بلوچ انٹر پاس ہیں اور ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہیں۔ انھوں نے چاکیواڑہ پولیس تھانے میں اس واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے درخواست دی لیکن مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

درخواست گزار نے اپنے والد کچکول علی کا بھی حوالہ دیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے ہیں۔

ماہ پارہ بلوچ کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملزم کو 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنا اور وکیل تک رسائی دینا قانون کا تقاضہ ہے، اور اگر ان کے بھائی نبیل پر کوئی الزام ہے تو انھیں عدالت میں پیش کیا جائے۔

اسی بارے میں