کراچی:فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں اضافے کے بعد آپریشن، 25 گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سرجانی ٹاؤن اور خدا کی بستی کے علاقوں میں سرچ آپریشن کے بعد 20 کے قریشب مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا: کراچی پولیس

کراچی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہلاکتوں کے واقعات میں تیزی کے بعد رینجرز اور پولیس نے شہر کے مضافاتی علاقوں میں چھاپے مار کر 25 سے زائد مشتبہ ملزمان کوگرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

شہر میں بدھ کو جامعہ بنوریہ کے استاد مولانا مسعود بیگ اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی کے رابطہ کار سلمان کاظمی کے علاوہ تنظیم اہل سنت و الجماعت کے تین کارکن و ہمدرد ہلاک کر دیے گئے تھے۔

اس سے قبل 6 ستمبر کو عزیز آباد کے علاقے میں نامور دینی عالم علامہ عباس کمیلی کے فرزند اور شیعہ عالم علامہ علی اکبر کمیلی کو ہدف بنا کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ایس ایس پی ضلع غربی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ شہر میں جاری فرقہ وارانہ واقعات کے بعد سرجانی اور خدا کی بستی کے علاقوں میں ایک سرچ آپریشن کیا گیا، جہاں سے 20 کے قریشب مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب رینجرز کے ترجمان نے ایک اعلامیے میں بتایا ہے کہ رینجرز نے شرافی گوٹھ، زمان ٹاؤن اور کرنال بستی میں چھاپے مارکر پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

ترجمان کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے جن میں ایک مفرور ملزم بھی شامل ہے۔

ادھر نارتھ ناظم آباد بلاک کے، میں جمعرات کو ایک کریکر کا دھماکہ ہوا ہے۔ شاہراہ نور جہاں تھانے کی پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار ہیلمٹ پہنے ہوئے دو ملزمان دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ینجرز نے شرافی گوٹھ، زمان ٹاؤن اور کرنال بستی میں چھاپے مارکر پانچ ملزمان کو گرفتار کیا

گذشتہ روز حیدری مارکیٹ کے قریب جامعہ بنوریہ کے استاد اور مفتی محمد نعیم کے داماد مسعود بیگ کو اس وقت قتل کردیا گیا تھا جب وہ کار میں اپنے بچوں کو اسکول سے لینے جا رہے تھے۔

لیاقت آباد ایف سی ایریا میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں 35 سالہ قاسم رضا ہلاک ہوگئے تھے جبکہ گذ شتہ شب کورنگی کی عوامی کالونی میں دودھ کی دکان پر فائرنگ میں دو افراد ارشد اور سلیم ہلاک ہوگئے تھے۔

اہل سنت و الجماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ قاسم رضا ان کے کارکن جبکہ ارشد اور سلیم ہمدرد تھے۔

دریں اثنا جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی نعیم نے مسعود بیگ کے قتل کو تمام علما و مدراس پر حملہ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں آپریشن کے نام پر ہونے والا ڈرامہ اہل مدارس علما و طلبہ کو ہراساں کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔

یاد رہے کہ شہر میں ہلاکتوں کے خلاف مجلس وحدت مسلمین نے جمعے کو احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں