سیلابی ریلا ملتان میں داخل، سینکڑوں دیہات زیرِ آب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیلاب سے اب تک پنجاب کے دس اضلاع متاثر ہوئے ہیں جن میں سے جھنگ، چنیوٹ اور حافظ آباد سب سے زیادہ متاثرہ ضلعے ہیں: این ڈی ایم اے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی اضلاع میں تباہی مچانے کے بعد دریائے چناب میں آنے والا بڑا سیلابی ریلا اب جنوبی ضلع ملتان کی حدود میں داخل ہو گیا ہے اور علاقے میں فوج اور انتظامیہ اب بھی ہائی الرٹ ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک میں بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 274 تک پہنچ گئی ہے۔

حکام کے مطابق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاک فوج اور سول انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے اور دریا کے کنارے آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے عمل جاری ہے۔

دوسری جانب محکمۂ موسمیات نے دریائے سندھ میں سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ 15 سے 16 ستمبر کے درمیان گڈو بیراج جبکہ 16 سے 17 ستمبر کے درمیان سکھر بیراج سے چھ سے سات لاکھ کیوسک پانی گزرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption این ڈی ایم نے متاثرینِ سیلاب کی کل تعداد 11 لاکھ بتائی ہے تاہم صوبہ پنجاب کی کابینہ کمیٹی برائے سیلاب کے مطابق ایسے افراد کی تعداد 18 لاکھ تک پہنچ چکی ہے

اِس صورتحال کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے ضلعوں مظفر گڑھ ، رحیم یار خان ، راجن پور کے علاوہ سندھ میں جیکب آباد، شکارپور، گھوٹکی اور سکھر میں رقبہ زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ نے جمعے کو وفاقی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ دریائے چناب میں سیلاب کی صورتحال 1992 جیسی ہے اور ریلا ہیڈ پنجند کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے اب تک پنجاب کے دس اضلاع متاثر ہوئے ہیں جن میں سے جھنگ، چنیوٹ اور حافظ آباد سب سے زیادہ متاثرہ ضلعے ہیں۔

بریفنگ میں کابینہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ بارش اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 274 تک پہنچ گئی ہے جبکہ تین ہزار دیہات متاثر ہوئے اور 43 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

صوبہ پنجاب کے آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق پنجاب میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 194 ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ بارشوں سے 66 افراد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور 14 گلگت بلتستان میں مارے گئے تھے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق متاثرین کی تعداد 18 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں سے 1 لاکھ 40 ہزار متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے

لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کابینہ کمیٹی کے رکن زعیم قادری کا کہنا تھا کہ پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں 500 امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں جبکہ 1 لاکھ 40 ہزار متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

سیلاب کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر شجاع خانزادہ نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں امداد اور بچاؤ کا آپریشن جاری ہے جس میں فوج ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شریک ہے۔

ان کے مطابق امدادی کارروائیوں میں 16 ہیلی کاپٹر اور 550 سے زیادہ کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔

آئی ایس پی آر نے بھی امدادی کارروائیوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق سیلاب سے متاثرہ جھنگ، ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان کے اضلاع میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

بیان کے مطابق اب تک 29 ہزار سے زیادہ افراد کو ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور جمعے کو ہی فوجیوں نے مظفرگڑھ، احمد پور شرقیہ، پنجند اور ملتان میں سیلاب میں پھنسے ساڑھے پانچ سو افراد کو نکالا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس کے علاوہ فوج کے طبی کیمپ چنیوٹ، جھنگ اور تریموں میں کام کر رہے ہیں جبکہ ملتان اور بہاولپور میں موبائل طبی ٹیمیں متاثرین کے علاج میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں