وہاڑی: بچوں کی ہلاکت کا مقدمہ، ڈاکٹروں کی ہڑتال

Image caption منگل کی صبح چار نومولود بچے ہلاک ہوئے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع وہاڑی کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں بچوں کے وارڈ میں چار نومولود بچوں کی ہلاکت کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

یہ مقدمہ چار ڈاکٹروں سمیت سات افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد ضلع وہاڑی کے تمام سرکاری اور نجی سطح پر کام کرنے والے ڈاکٹروں نے ہڑتال کر دی ہے اور صرف ایمرجنسی وارڈز میں ان مریضوں کو دیکھا جا رہا ہے جن کی حالت تشویش ناک ہو۔

مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی بنائی گئی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹیوں نے اپنی رپورٹ میں چلڈرن وارڈ میں بچوں کو فراہم کی جانے والی آکسیجن کی معطلی کو بچوں کی موت کی وجہ قرار دیا۔

جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ان میں ڈسٹرکٹ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اشرف چوہدری، چلڈرن کمپلیکس وہاڑی کے ہیڈ ڈاکٹر خالد محمود، ماہر بچگان ڈاکٹرحفیظ احمد، ڈیوٹی ڈاکٹر مقبول احمد، ہیڈ نرس سمیرا جانسن، وارڈ کلینر یاسین اور ان کی جگہ ڈیوٹی دینے والے خالد شاہ شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کےمشیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کی ہلاکت منگل کو ڈیوٹی پر موجود عملے کی غفلت کے سبب ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس سے پہلے بھی جب نوزائدہ بچوں کی نگہداشت کے اس وارڈ میں زیادہ بچوں کی ہلاکت ہوئی تھی تو وہ رات کے وقت ہوئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رات 12 بجے کے بعد ڈیوٹی پر موجود عملے نے بچوں کی دیکھ بھال کرنے میں کوتاہی برتی تھی۔

خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر مریضوں کی خدمت کرتے ہیں لیکن اگر ان کی کوتاہی سے کسی کی جان جاتی ہے تو وہ ذمہ دار بھی ہیں۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اشرف چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس رات وارڈ میں 14 بچے تھے اگر آکسیجن کے ختم ہونے پر بچے ہلاک ہوتے باقی بچے بھی ہلاک ہو جاتے۔ ان کا موقف تھا کہ بچوں کی حالت تشویش ناک تھی اس لیے وہ ہلاک ہو گئے۔

ڈاکٹر اشرف کے بقول تمام ڈاکٹر ان کے ساتھ ہیں اور ضلع وہاڑی کے ڈاکٹروں نے ان کے ساتھ یکجہتی کے لیے ہڑتال کی ہے کیونکہ ان کے خلاف یہ مقدمہ بے بنیاد ہے۔

اسی بارے میں