ملتان: سیلاب کا زور برقرار، سینکڑوں دیہات زیرِ آب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد والا پل اور شیر شاہ بند میں شگاف ڈالے جانے سے ملتان شہر میں سیلابی پانی آنے کا خطرہ 95 فیصد تک ٹل گیا ہے: ڈی سی او

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دریائے چناب میں آنے والے سیلاب سے ملتان شہر کو محفوظ رکھنے کی کوششیں جاری ہیں اور حکام نے شہر کو بچانے کے لیے سنیچر کو بھی متعدد مقامات پر شگاف ڈالے ہیں جس سے مزید دیہات زیرِ آب گئے ہیں۔

ادھر دریائے سندھ میں سیلاب کی ممکنہ صورتحال کے تناظر میں حکومت سندھ نے آٹھ اضلاع میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے۔

ملتان سے مقامی صحافی محمد ارتضیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ محکمۂ آبپاشی کے حکام کے مطابق بڑا سیلابی ریلا سنیچر کو بھی ملتان ڈویژن کی حدود سے گزر رہا ہے اور اس وقت پانی کا بہاؤ چھ لاکھ کیوسک سے زیادہ ہے۔

حکام کے مطابق سیلابی پانی اس وقت ملتان، علی پور سے مظفرگڑھ، شجاع آباد اور جلال پور پیر والا کی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ ہیڈ پنجند میں بھی پانی کی مقدار میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے اور وہاں بڑا ریلا 24 سے 48 گھنٹے میں پہنچے گا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملتان کی ضلعی انتظامیہ نے پانی کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے سنیچر کی صبح شیر شاہ بند میں مزید ایک بڑا شگاف ڈالا ہے۔

اس سے قبل جمعے کی دوپہر ہیڈ محمد والا پل کے ساتھ موجود پشتے میں دو بڑے شگاف ڈالے گئے تھے اور صورتحال میں بہتری نہ آنے پر ملتان شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے دوسرا پشتہ بھی شیر شاہ پل کے قریب دو مقامات پر توڑ دیا گیا تھا۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ڈی سی او ملتان زاہد سلیم گوندل نے جمعے کی شب بتایا کہ گذشتہ دو دن میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہوئی جس کی وجہ سے حکام نے اندازہ لگایا کہ علاقے میں موجود سیلابی بند ٹوٹ سکتا ہے جس سے سے شہر کی 20 سے 30 لاکھ آبادی متاثر ہو گی۔

ان کے مطابق اس کے بعد ہی حکام نے فیصلہ کیا کہ حفاظتی بندوں میں شگاف ڈالے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملتان کے نواح میں سیلابی پانی میں پھنسے افراد کو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے امداد فراہم کی جار ہی ہے

ڈی سی او ملتان زاہد سلیم گوندل کے مطابق ’ہیڈ محمد والا بند پہ شگاف ڈالا جائے تو شیر شاہ بند ہر صورت شگاف ڈالنا پڑتا ہے۔ اگر اسے کھولیں گے نہیں تو اس کا پانی شہر میں آنے کا خطرہ تھا۔ ‘

ان کے بقول ’یہ بند چونکہ شہر کی حدود کے اندر ہیں لہذا 126 دیہات کے پونے تین لاکھ لوگ براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔‘

زاہد سلیم گوندل کا کہنا ہے شگاف ڈالے جانے سے شہر میں سیلابی پانی آنے کا خطرہ 95 فیصد تک ٹل گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ساڑھے سات لاکھ کیوسک کا ریلا ابھی آنا ہے تاہم اس سے بھی خطرہ بہت زیادہ نہیں ہے۔

شگاف ڈالنے سے ملتان کا مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

ضلعی حکام کے مطابق سیلاب سے اب تک ملتان ڈویژن میں ملتان، مظفر گڑھ اور خانیوال کے 300 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں جبکہ چار لاکھ ایکڑ رقبے پر موجود فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

سیلابی ریلا اب ملتان سے مظفر گڑھ کی جانب بڑھ رہا ہے اور پی ٹی وی کے مطابق مظفر گڑھ شہر کو بچانے کے لیے دوآبہ بند توڑنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور ملتان مظفرگڑھ سڑک پر کٹ لگا کر پانی کو راستہ دیا گیا ہے۔

اس سے قبل جمعے کو ہی قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ نے کہا تھا کہ ملک میں بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 274 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 194 پنجاب میں مارے گئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے سربراہ نے جمعے کو وفاقی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا سیلاب سے اب تک پنجاب کے دس اضلاع متاثر ہوئے جن میں سے جھنگ، چنیوٹ اور حافظ آباد میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیلاب سے اب تک پنجاب کے دس اضلاع متاثر ہوئے جن میں سے جھنگ، چنیوٹ اور حافظ آباد میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے سیلاب زدگان کے لیے امدادی کارروائیوں کے حوالے سے سنیچر کو جو بیان جاری کیا ہے اس کے مطابق جھنگ، چنیوٹ، ملتان اور مظفرگڑھ میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں جن میں سات ہیلی کاپٹر اور 335 کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔

بیان کے مطابق اب تک متاثرین میں 59 ٹن سے زیادہ راشن تقسیم کیا گیا ہے جبکہ فوج کے 16 طبی و ریلیف کیمپ متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں جبکہ دوردراز علاقوں میں موبائل طبی ٹیمیں متاثرین کے علاج میں مصروف ہیں۔

سندھ میں ہنگامی حالت کا اعلان

دوسری جانب محکمۂ موسمیات نے دریائے سندھ میں سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے اور حکومت سندھ نے آٹھ اضلاع میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ان اضلاع میں کشمور، جیکب آباد، گھوٹکی، لاڑکانہ، سکھر، میرپور، نواب شاہ اور دادو شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دریائے سندھ کے کنارے کچے کے علاقے سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل بھی جاری ہے اور حکومت نے لاڑکانہ میں اس مقصد کے لیے پانچ طبی کیمپوں سمیت 22 کیمپ قائم کیے ہیں۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق 15 سے 16 ستمبر کے درمیان گڈو بیراج جبکہ 16 سے 17 ستمبر کے درمیان سکھر بیراج سے چھ سے سات لاکھ کیوسک پانی گزرے گا۔

اسی بارے میں