سیلاب کے پونے تین لاکھ متاثرین محفوظ مقامات پر منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین کو خوراک بھی فراہم کیا جا رہا ہے

پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نے کہا ہے کہ پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے پاکستان فوج، ریسکیو 1122 اور دیگر محکموں کی مدد سے 276681 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

این ڈی ایم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کا کام اب بھی جاری ہے۔

پاکستان فوج نے ملتان اور مظفر گڑھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 3000 افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کر دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان نے فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے حوالے سے بتایا کہ فوج کے پانچ ہیلی کاپٹر بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق ملتان کے کور کمانڈر لیفٹینینٹ جنرل عابد پرویز سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا روزانہ دورہ کرتے ہیں۔

ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین کو خوراک بھی فراہم کیا جا رہا ہے اور اب تک انھیں 15000 کلو گرام راشن مہیا کیا گیا ہے۔

اسی طرح فوج نے سیلاب کے متاثرین کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ملتان اور مظفر گڑھ میں میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے ہیں۔

این ڈی ایم کے بیان کے مطابق اقوام متحدہ کے تعاون سے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ہونے والے نقصانات کا ابتدائی جائزہ لینے کے کام کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

یہ جائزہ منڈی بہائو الدین ، حافظ آباد، چنیوٹ، جھنگ اور ملتان سمیت ان انتہائی متاثرہ اضلاع میں کیا جائے گا جن کی نشاندہی قدرتی آفات سے نمٹنے کے پنجاب کے ادارے کی طرف سے کی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے نے بیان میں کہا کہ اس جائزے کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات اور دیگر ضروریات کی بحالی کی نشاندہی کرنا ہے۔

جائزہ رپورٹ کو این ڈی ایم اے اور اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر کی طرف سے مشترکہ طور پر حتمی شکل دی جائے گی۔

اس سے پہلے سنیچر کو دریائے چناب میں آنے والے سیلاب سے ملتان شہر کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کے دوران حکام نے شیر شاہ بند میں مزید ایک مقام پر شگاف ڈالا تھا جس سے مزید دیہات زیرِ آب گئے تھے۔

ادھر دریائے سندھ میں سیلاب کی ممکنہ صورتحال کے تناظر میں حکومت سندھ نے آٹھ اضلاع میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ان اضلاع میں کشمور، جیکب آباد، گھوٹکی، لاڑکانہ، سکھر، میرپور، نواب شاہ اور دادو شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دریائے سندھ کے کنارے کچے کے علاقے سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل بھی جاری ہے اور حکومت نے لاڑکانہ میں اس مقصد کے لیے پانچ طبی کیمپوں سمیت 22 کیمپ قائم کیے ہیں۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق 15 سے 16 ستمبر کے درمیان گڈو بیراج جبکہ 16 سے 17 ستمبر کے درمیان سکھر بیراج سے چھ سے سات لاکھ کیوسک پانی گزرے گا۔

اسی بارے میں