رحیم یار خان اور راجن پور میں ہائی الرٹ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سیلاب سے بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع رحیم یار خان اور راجن پور میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر سرکاری امدادی اور ریسکیو اداروں کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے۔

جنوبی پنجاب میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کے بعد اب سیلاب صوبہ سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جنوبی پنجاب کے علاقوں ملتان، مظفرگڑھ، اوچ شریف اور بہاولپور میں امدادی کارروائیوں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

پنجاب میں حالیہ سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 232 ہو چکی ہے، جبکہ 386 افراد زخمی ہوئے ہیں، 34 ہزار مکانوں کو نقصان پہنچا ہے اور مجموعی طور پر لگ بھگ تین ہزار دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 16 لاکھ 81 ہزار ایکڑ رقبہ زیر آب آ گیا ہے۔

تریموں پر اس وقت نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پنجند سے بھی پانی میں کمی ہو رہی ہے۔ شیر شاہ پل پر ابھی بھی چار لاکھ کیوسک پانی موجود ہے، جو بتدریج کم ہو رہا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے مظفر گڑھ شہر کو بچانے کے لیے دو آبہ فلڈ بند میں دو شگاف ڈالے گئے ہیں جبکہ مظفر گڑھ کےحفاظتی بند اور لنک کینال میں خودبخود شگاف پڑنے سے بستی مراد آباد اور ٹھٹھہ احمد پور سیال کے آٹھ دیہات مکمل طور پر زیر آب آ گئے ہیں۔

اس وقت پانی کا رخ پنجند سے آگے گدو بیراج کی طرف ہے اور پنجاب میں اس کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اب ملتان اور مظفرگڑھ کے علاوہ تمام متاثرہ اضلاع میں بحالی کا کام شروع کیا جا رہا ہے، جبکہ پنجاب ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان خالد نواز کے مطابق سیلاب سے ضلع راجن پور اور رحیم یار خان کے متاثر ہونے کا امکان نہیں اور ایک دو روز میں صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں آ جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیلابی ریلا اب ملتان اور مظفر گڑھ سے آگے بڑھ گیا ہے

تاہم ملتان اور مظفرگڑھ میں اس وقت بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں جن میں فوج ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور مقامی رضاکار حصہ لے رہے ہیں۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع جھنگ ہے جہاں بڑے پیمانے پر لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

قدرتی آفات سے نمنٹنے والے صوبائی ادارے کے مطابق حالیہ سیلاب کے دوران متاثرہ علاقوں سے پانچ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر کے مطابق ان کے ادارے نے حالیہ سیلاب کے دوران 50 ہزار چھ سو افراد کی زندگیاں بچائی ہیں۔

پنجاب حکومت نے ہر سیلاب زدہ ضلعے میں ایک صوبائی وزیر اور سیکرٹری کو تعینات کیا ہے کہ وہ نقصان کا تخیمنہ لگا سکے جس کے مطابق ان اضلاع میں بحالی کا کام کیا جائے گا۔

اسی بارے میں