افغان سرحد سے دوسرا حملہ، پاکستان کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغان صوبے خوست سے 90 سے 100 کے قریب شدت پسند پاکستانی سرزمین میں داخل ہوئے: دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق افغانستان کی سرحد سے آنے والے شدت پسندوں کے حملے میں تین شدت پسند اور چار پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں اور اس پر افغان حکام سے احتجاج کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ شب افغان صوبے خوست سے 90 سے 100 کے قریب شدت پسند پاکستانی سرزمین میں داخل ہوئے۔

حکام کے مطابق پاکستانی فوجی دستوں نے اس حملے کو کامیابی سے پسپا کر دیا لیکن اس دوران جوابی کارروائی میں چار پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے۔ جب کہ ’شدت پسندوں کا جانی نقصان ہوا اور وہ تین لاشیں پیچھے چھوڑ کر افغانستان فرار ہو گئے۔‘

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے پر احتجاج کے ساتھ افغان حکومت سے صوبہ خوست اور پکتیکا میں حال ہی میں شدت پسندوں کی پناہ گاہوں پر اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ افغان حکومت سے اس حملے پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔

پاکستان نے افغانستان سے ایک بار پھر اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے پیش نظر پاکستانی حکام کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔ پاکستان نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ سرحد پار سے دوبارہ اس قسم کے حملوں کے تدارک اور شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے فوجی حکام کے مطابق منگل کی صبح قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں افغانستان کے سرحدی علاقے سے ہونے والے حملے کے بعد شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں تین سکیورٹی اہلکار اور 11 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

سپین وام کے علاقے میں ڈنڈی کچھ کے مقام پر فرنٹیئر کور کی چوکی پر حملے کے بعد کی جانے والی جوابی کارروائی میں ایک شدت پسند کو گرفتار کر لیا ہے۔

۔

اسی بارے میں