نئے ڈی جی آئی ایس آئی کا نام چند روز میں متوقع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر ابھی تک فوج اور سول حکومت کے درمیان رسمی تبادلہ خیال نہیں ہوا ہے

پاکستان کے سب سے اہم خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نئے سربراہ کے نام کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے اور اس سے قبل بّری فوج میں پانچ نئے لیفٹیننٹ جنرلز کی تعیناتی کا اعلان کیا جائے گا۔

راولپنڈی میں قائم فوج کے صدر دفاتر یا جی ایچ کیو میں اس بارے میں ہونے والے صلاح و مشورہ سے واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تعیناتی سے قبل بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بعض میجر جنرلز کو ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرلز بنانا چاہتے ہیں تاکہ پاکستانی فوج میں دوسرے اہم ترین سمجھے جانے والے عہدے کے لیے ان کے نام پر بھی غور کیا جا سکے۔

آئی ایس آئی کے سربراہ سمیت پاکستانی فوج کے پانچ لیفٹیننٹ جنرلز اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔

ملک میں جاری سیاسی بحران کو پیدا کرنے میں ان میں سے بعض فوجی افسران پرالزام لگتا رہا ہے اس لیے اس موقعے پر پاکستانی فوج میں ان کلیدی تبدیلیوں کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

اکتوبر کے پہلے ہفتے میں بّری فوج کے جو افسر ریٹائر ہونے والے ہیں ان میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام عباسی، منگلا کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق خان، گوجرانوالہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سلیم نواز، پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی اور کراچی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی شامل ہیں۔

یہ پانچوں عہدے پاکستانی فوج میں خاصے اہم ہیں لیکن آئی ایس آئی کے سربراہ کو بری فوج کے بعد فوج کا اہم ترین عہدیدار سمجھا جاتا ہے۔

آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی اصولی طور پر وزیراعظم کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ تاہم اس اہم ترین عہدے پر تعیناتی میں بّری فوج کے سربراہ کی رائے بھی بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جی ایچ کیو اور ایوان وزیراعظم میں آج کل اس کلیدی عہدے پر تعیناتی کے لیے صلاح و مشورہ جاری ہے۔

وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر ابھی تک فوج اور سول حکومت کے درمیان رسمی تبادلہ خیال نہیں ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف فوج میں پانچ نئے لیفٹیننٹ جنرلز کی تعیناتی سے قبل وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔

وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق میاں نواز شریف نے اس عہدے پر تعیناتی کے لیے بعض افسروں کے ناموں پر غور کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صحافی حامد میر پر حملے اور اس کے بعد آئی ایس آئی پر الزام کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں جنرل ظہیر کی حمایت میں پوسٹر لگائے گئے

جن دو افسروں کا نام گردش کر رہا ہے ان میں لاہور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید زمان اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے شامل ہیں۔

اس کے مقابلے میں فوجی حلقوں میں جو دو نام آئی ایس آئی کی سربراہی کے لیے زیر بحث ہیں یہ دونوں جونیئر افسران میجر جنرل نذیر بٹ اور میجر جنرل رضوان اختر ہیں اور دفاعی تجزیہ کاروں کے لیے یہ نام اس اہم عہدے کے لیے حیرت کا باعث ہیں۔

میجر جنرل نذیر بٹ پاکستانی فوج کے تربیتی ادارے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈنٹ ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں میں فوجی ڈسپلن کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ میجر جنرل نذیر بٹ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عملی طور پر بھی حصہ لے چکے ہیں۔

تاہم ان کی اس کلیدی عہدے پر ممکنہ تعیناتی کے لیے انھیں باقی افسروں سے جو تجربہ ممتاز کرتا ہے وہ ان کی امریکہ میں تین برس کی تعیناتی ہے۔

جنرل بٹ واشنگٹن میں دفاعی اتاشی کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ اس دوران وہ امریکی محکمۂ دفاع کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی پالیسی کی تیاری کے دوران قریبی رابطے میں رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میجر جنرل رضوان اختر سندھ رینجرز کے سربراہ کے طور پر کام کر چکے ہیں

میجر جنرل رضوان اختر نے سندھ رینجرز کے سربراہ کے طور پر کراچی میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر چکے ہیں اور ان کی فوج میں شہرت ایک ایسے افسر کے طور پر ہے جو مختلف ذمہ داریاں بغیر پیچیدگیوں کے ادا کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا مزاج انھیں سویلین انتظامیہ، خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کے ساتھ کام کرنے میں بہت سہولت فراہم کرتا ہے۔

پاکستانی فوج کے ابھرتے ہوئے یہ دونوں افسران اپنے غیر سیاسی نظریات کی وجہ سے غیر جانبدار سمجھے جا رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جنرل راحیل ان نئے افسروں میں سے کسی کو آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں