کراچی جماعت اسلامی کے تین ’ہمدرد‘ قتل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’ہلاک ہونے والے جماعت اسلامی کے کارکن نہیں بلکہ ہمدرد تھے‘

کراچی میں فائرنگ کے ایک واقع میں جماعت اسلامی کے تین ’ہمدرد‘ ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعے کو سیاسی کشیدگی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

جامعہ کراچی کے ڈاکٹر محمد شکیل اوج قتل

یہ واقع گزشتہ سرجانی ٹاؤن سیکٹر سیون ڈی کی مسجدِ قبا کے قریب پیش آیا ہے۔

ایس ایس پی وسطی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ کچھ افراد جماعت اسلامی کے دفتر کے قریب واقع اسٹیٹ ایجنسی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس میں اختر انصاری، اشرف اور سلمان شدید وہ زخمی ہوگئے۔ انہیں مقامی لوگوں نے نجی ہپستال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

ایس ایس پی عرفان بلوچ کے مطابق مقتولین کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور ان کے سیاسی اختلافات تھے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ ان کے دفتر پر حملہ نہیں ہوا اور ہلاک ہونے والے ان کارکن نہیں بلکہ ’ہمدرد‘ تھے۔

نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ شہر میں دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں رینجرز کہاں ہے اور پولیس کہاں ہے؟

دوسری جانب جامعہ کراچی کے ڈین ڈاکٹر شکیل اوج کے قتل میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے، جبکہ اساتذہ نے تدریسی عمل کا بائیکاٹ کردیا ہے جس وجہ سے جمعہ کو دوسرے روز بھی تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔

اسی بارے میں