مہمند ایجنسی سے دو افراد کی لاشیں برآمد

  • رفعت اللہ اورکزئی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا کیپشن

تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار نے کہا ہے کہ مرنے والے افراد کا تعلق ان کے گروپ سے ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ دو افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

ادھر تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار نے دعویٰ کیا ہے کہ مرنے والے دونوں افراد کا تعلق ان کے گروپ سے ہے اور جو کچھ عرصہ سے سکیورٹی فورسز کے تحویل میں تھے۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو مہمند ایجنسی کے علاقے خویزئی میں سڑک کےکنارے دو افراد کی لاشیں ملی تھیں جنھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مرنے والے دونوں افراد کو سر اور سینے میں گولیاں ماری گئی ہیں۔ اہلکار کے مطابق ہلاک شدگان کی لاشیں شناخت کے لیے ایجنسی ہیڈ کواٹر غلنئی پہنچائی گئی جہاں ایک میت ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئی، جبکہ دوسرے شخص کو نامعلوم قرار دے کر امانتاً دفن کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار نے کہا ہے کہ مرنے والے افراد کا تعلق ان کے گروپ سے ہے اور دونوں بھائی تھے۔

تحریک کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو بھیجے گئے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ دونوں افراد کچھ عرصہ سے غلنئی میں سکیورٹی فورسز کی تحویل میں تھے جہاں انھیں تشدد کر کے ہلاک کیا گیا۔ تاہم سرکاری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں لاشیں ملنے کے واقعات پہلے ہوتے رہے ہیں۔ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے واقعات میں لاشیں سڑک کے کنارے پھینک دی جاتی ہیں اور مرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق کالعدم تنظیموں سے رہا ہے۔