’حکومت حکمت اور تدبر کا مظاہرہ کرنے میں ناکام‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 2013 میں ہونے والے انتخابات دھاندلی کے اعتبار سے گذشتہ انتخابات سے بالکل مختلف تھے

پاکستان میں ایک سال قبل ہونے والے متنازع انتخابات کے بعد تقریباً ہر جماعت کی طرف سے دھاندلی کی آوازیں اٹھیں۔

پاکستان کے عام انتخابات میں دھاندلی کی آوازیں اٹھنا کوئی نئی بات نہیں تھا۔

سیاسی جماعتوں کی طرف سے دھاندلی کے الزامات کا لگایا جانا کوئی ایسا حیران کن اور بلا جواز بھی نہیں رہا۔ سنہ 1988ہ کے بعد پیش آنے والے واقعات نے بظاہر ثابت کیا کہ پاکستان میں منظم طریقے سے پولنگ سے قبل، پولنگ کے دن اور پولنگ کے بعد دھاندلی کی جاتی رہی۔

’حکومت اکثریت سے نہیں تدبر سے چلتی ہے‘

’رقوم فوج کے نہیں آئی ایس آئی کے اکاؤنٹ میں آئیں‘

اس دھاندلی میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا ملوث ہونا بھی اب کوئی ڈھکی چھپی یا راز کی بات نہیں۔

ہیوی مینڈیٹ ہو یا آئی جی آئی کا بنایا جانا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس دھاندلی کا فائدہ ہمشیہ ایک ہی جماعت نے اٹھایا۔

سنہ 2013 میں ہونے والے انتخابات دھاندلی کے اعتبار سے گذشتہ انتخابات سے بالکل مختلف تھے۔

پہلی مرتبہ دھاندلی کا الزام کسی بھی جماعت کی طرف سے ملک کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر نہیں لگایا گیا۔ گو کے انتخابات سے قبل ایسی آوازیں سنی گئیں کہ آئی ایس آئی کے کچھ سابق افسران ایک مخصوص سیاسی جماعت کی حمایت کر رہے ہیں۔

لیکن کم از کم پولنگ اور پولنگ کے بعد آئی ایس آئی کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کا کوئی الزام اب تک سامنے نہیں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسلام آباد میں 15 اگست کی رات سے احتجاجی دھرنے جاری ہیں

اس کا کریڈٹ یقیناً فوج اور آئی ایس آئی کی قیادت کو ہی جائے گا کہ وہ انتخابی عمل سے دور رہے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔

نئے انتخابات کے بعد ملک کو ایک تجربہ کار قیادت نصیب ہوئی۔ لیکن یہ تجربہ کار سیاسی قیادت جو فوج کی سیاست میں مداخلت کے دونوں رخ دیکھ چکی تھی چند ہی ماہ میں فوج کے منہ در منہ کھڑی نظر آئی۔

اسلام آباد کے ڈی چوک میں گذشتہ 40 دن سے جو مناظر قوم دیکھ رہی ہے وہسیاسی قیادت اور فوج کے درمیان پس پردہ کشمکش کی ہی عکاسی کرتے ہیں۔

جس دن سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں یہ احتجاجی دھرنے داخل ہوئے اسی دن سے اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے سربراہ کو وقت سے پہلے گھر بھیجنے کے امکان کے بارے میں سرگوشیاں شروع ہو گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTV
Image caption اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر احتجاجی دھرنوں کے دوران جنرل راحیل کی نواز شریف سے متعدد بار ملاقات ہوئی اور کور کمانڈرز کا اجلاس بھی بلایا گیا

یہ سرگوشیاں یہاں تک زور پکڑ گئی تھیں ایک موقعہ پر کچھ ٹی وی چینلز نے یہاں تک کہنا شروع کر دیا تھا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اس سلسلے میں قرار داد پیش کی جانے والی ہے۔

آئی ایس آئی کے سربراہ ظہیر السلام کی مدت ملازمت کیونکہ ختم ہونے والی تھی اس لیے قبل از وقت گھر بھیجے دینے کی تجویز پر جنرل راحیل شریف کے مشورے پر عمل نہیں کیا گیا۔

آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کے آنے سے کسی حد تک فوج اور حکومت کے تعلقات بہتر ہو جائیں گے اس کا انحصار بڑی حد تک موجود حکومت کے تدبر اور حکمت پر ہی ہو گا۔

لیکن ایک بات بڑی حد تک کہی جا سکتی ہے کہ چاہے وہ سابق صدر پر بغاوت کا مقدمہ چلانے کا معاملہ ہو یا جیو ٹی وی کا مسئلہ حکومت ابھی تک حکمت اور تدبر کا مظاہرہ کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

اسی بارے میں