راولپنڈی: فرقہ وارانہ ہلاکتوں کے بعد حالات کشیدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہلاک ہونے والے مفتی امان اللہ کا تعلق اسی مدرسے سے ہے جو گذشتہ برس عاشورۂ محرم پر فرقہ وارانہ فسادات کا مرکزی مقام تھا

راولپنڈی میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں اور جلاؤ گھیراؤ کے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں اور شہر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے پولیس کی مزید نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

دارالحکومت کے جڑواں شہر میں یہ کشیدگی اتوار کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب راجہ بازار کے علاقے میں واقع مدرسے دارالعلوم تعلیم القرآن کے نائب مہتمم امان اللہ کو دھمیال روڈ پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

امان اللہ کا تعلق تنظیم اہلِ سنت و الجماعت سے تھا اور تنظیم کے مطابق یہ گذشتہ چھ ماہ میں راولپنڈی میں ہدف بنا کر ہلاک کیے جانے والے ان کے آٹھویں رہنما تھے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ امان اللہ کی ہلاکت کی اطلاع ملنے پر ان کے مدرسے کے طلبا سمیت جماعت کے کارکنوں نے احتجاج شروع کر دیا اور اس دوران مدرسے کے قریب اولڈ ٹائر مارکیٹ میں ایک امام بارگاہ اور دکانوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق اتوار کی شب لگائی گئی اس آگ سے دکانیں اور امام بارگاہ کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ امام بارگاہ کی عمارت کو ہدف بنا کر جلایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امان اللہ کی ہلاکت کی اطلاع ملنے پر مشتعل طلبا نے احتجاج شروع کر دیا

راولپنڈی کےگنج منڈی تھانے کے ایک اہلکار کے مطابق امام بارگاہ کی عمارت سے ایک شخص کی لاش ملی ہے جس کا نام قربان بتایا گیا ہے اور مقامی آبادی کے مطابق اس کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مذہبی رہنما کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے جبکہ اس حملے میں زخمی ہونے والے لڑکے کی حالت بدستور نازک ہے۔

اہلِ سنت و الجماعت کے ترجمان انیب فاروقی کے مطابق مقتول رہنما کی نمازِ جنازہ پیر کو سہ پہر تین بجے لیاقت باغ میں ادا کی جائے گی۔

پولیس حکام کے مطابق اس موقع پر حالات قابو میں رکھنے کے لیے مزید نفری تعینات کی گئی ہے۔

پیر کو راولپنڈی کے مرکزی علاقے میں دکانیں بند ہیں اور شہر میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

شہر کی انتظامیہ نے حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے فریقین کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا ہے۔

خیال رہے کہ ہلاک ہونے والے مفتی امان اللہ کا تعلق اسی مدرسے سے ہے جو گذشتہ برس عاشورۂ محرم پر فرقہ وارانہ فسادات کا مرکزی مقام تھا۔

ان فسادات میں کم از کم دس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے جبکہ علاقے میں کئی دن تک کرفیو نافذ رہا تھا۔

اسی بارے میں