خیبر ایجنسی: بارودی سرنگیں، دیگر اسلحہ برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اشخیل کا علاقہ سب ڈویژن لنڈی کوتل کے شمال میں آٹھ کلومیٹر دور پہاڑوں میں واقع ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ایک مکان سے ریموٹ کنٹرول بم اور بارودی سرنگوں سمیت بھاری اسلحہ اور بارود برآمد کر کے چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

پشاور اور اس سے ملحق قبائلی علاقے میں چند مقامات پر مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

خیبر ایجنسی میں جمعرات کی صبح فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے خاصہ دار اور لیویز فورس کے ہمراہ لنڈی کوتل کے قریب اشخیل کے مقام پر ایک مکان پر چھاپہ مارا۔

مقامی اہلکاروں نے بتایا کہ فورسز کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ مکان میں اسلحہ اور مشتبہ افراد موجود ہیں۔

اشخیل کا علاقہ سب ڈویژن لنڈی کوتل کے شمال میں آٹھ کلومیٹر دور پہاڑوں میں واقع ہے۔

حکام کے مطابق اس مکان سے چار کلو بارودی مواد، ایک ریموٹ کنٹرول بم، دو بارودی سرنگیں، 17 دستی بم، اور بڑی تعداد میں کارتوس برآمد ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔

پولیس نے گذشتہ روز پشاور کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا تھا جہاں سے کچھ مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔

یہ کارروائی دو روز پہلے پشاور میں خود کش دھماکے کے بعد کی گئی تھی لیکن اب تک اس سلسلے میں کوئی اہم گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

گذشتہ روز خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی تھی جس میں ذرائع کے مطابق دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

فوج کے تعلقاتِ عامہ کے محکمے نے اس پر خاموشی اختیار کیے رکھی تھی، تاہم مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس کارروائی میں جنگی طیاروں نے شدت پسندوں کے چار ٹھکانے تباہ کیے۔

ذرائع کے مطابق پشاور اور اس کے مضافات کے علاوہ خیبر ایجنسی میں ایسے شدت پسند موجود ہیں جو ان علاقوں میں تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

تجزیہ کار اور مبصر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کامیابی سے جاری ہے لیکن پشاور سمیت مختلف علاقوں میں مکمل امن کے قیام کے لیے خیبر ایجنسی اور پشاور کے مضافات میں بھی سکیورٹی فورسز کو کارروائی کرنا ہوگی۔

پشاور میں دو روز پہلے فرنٹیئر کور کے بریگیڈیئر کے قافلے پر خود کش حملے میں ایک خاتون اور ایف سی کے اہلکار سمیت چار افراد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں