’بھارت نے بات چیت کا ایک اور موقع کھو دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم نواز شریف کو وزیراعظم مودی نے اپنی تقریب حلف برداری پر مدعو کیا تھا

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کا بنیادی مسئلہ حل ہونا چاہیے اور یہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری بھی ہے۔

جمعے کو جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ نے تقریباً چھ دہائیاں قبل کشمیر میں رائے شماری کرانے سے متعلق قرارداد منظور کی تھی اور جموں، کشمیر کے عوام تاحال اس وعدے کے پورا ہونے کے انتظار میں ہیں۔

انھوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیر کے مسئلے پر پردہ نہیں ڈال سکتے ہیں جب تک اس کو جموں و کمشیر کے عوام کے خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا۔

وزیراعظم کے بقول پاکستان کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر تیار ہے اور ہماری کشمیری عوام کے حق خود ارادی پر حمایت اور مدد جاری رہی گی کشمیر کے مسئلے میں فریق ہونے کے ناطے یہ ہمارا تاریخی وعدہ اور ذمہ داری ہے۔‘

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کو خواہاں ہے اور یہ تعلقات برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہونے چاہیے۔

وزیراعظم نواز شریف نے بھارت کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان خارجہ سیکرٹریری سطح پر مذاکرات ملتوی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔

’ہمیں بھارت کی جانب سے سیکریٹری سطح کے مذاکرات منسوخ کرنے سے مایوسی ہوئی اور بین الاقوامی برادری نے بھی اس کو ایک اور موقع کھو دینے کے طور پر دیکھا۔ پاکستان اس بات پر قائل رہے گا کہ ہمیں تنازعات کے حل اور تجارتی، معاشی تعلقات کے فروغ کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھنا چاہیے اور ہمیں امن کے فوائد کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انھوں نے افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک مضبوط اور مستحکم افغانستان کے خواہاں ہیں اور افغانستان کے مسئلے کا وہاں کی عوام کی مرضی کے مطابق حل چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کو عالمی خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں ہونی چاہیں۔

جمعرات کو وزیر اعظم نواز شریف نے نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کے علاوہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون سمیت دنیا بھر کے متعدد رہنماؤں سے ملاقات کی۔

وزیراعظم نواز شریف کے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل پاکستانی سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے نیویارک میں پاکستانی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی وجہ نہیں ہے کہ پاکستان بھارت کے دباؤ میں آئے اور اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ نہ اٹھائے۔‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر میں جنگیں بھی ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ میں ایک بڑی رکاؤٹ مسیلہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے۔ دونوں ممالک نے متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر ہزاروں فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور ایل او سی پر تقریباً ایک دہائی سے جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

گذشتہ سال جو نواز شریف جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے نیویارک گئے تھے تو اس وقت بھی دونوں ممالک کے درمیان ایل او سی پر کشیدگی تھی اور دو طرفہ فائرنگ کے واقعات جاری تھے۔ نیویارک میں وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کی تھی جس میں ایل او سی پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی تقریب حلف برداری کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف کو مدعو کیا تھا اور دہلی میں دونوں رہنماؤں کے مابین ملاقات میں تعلقات کی بہتری پر اتفاق کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں