’خوفناک حد تک راست گو انسان‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ۔۔ جنرل رضوان اختر کو سنہ 1982 میں فرنٹیئر فورس میں کمیشن ملا

پاکستان کی فوج نے ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کا انتخاب کیا جنھیں ’پروفیشنل سپاہی‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔

تاہم یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے کہ کیا جنرل رضوان اختر ملک کی اندورونی سکیورٹی کو بحال کر سکیں گے؟

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی نے لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کو فوج میں دوسرا جبکہ بعض افراد کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بعد ملک کا دوسرا طاقتور انسان بنا دیا ہے۔

اس تعیناتی نے جنرل رضوان اختر کو ایک ایسی صورتِ حال میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک طرف علاقے کی سلامتی میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں تو دوسری جانب ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔

جنرل رضوان اختر کو سنہ 1982 میں فرنٹیئر فورس میں کمیشن ملا تھا۔ وہ فونٹیئر فورس کے مسلسل چھٹے آئی ایس آئی چیف ہیں جنھیں اس انفینٹری سے لایا گیا ہے۔

جنرل رضوان اختر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اچھی تعلیم اور تجربہ رکھتے ہیں۔

پاکستانی فوج کے محکمۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق جنرل رضوان اختر نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ ہیں۔

انھوں نے امریکی فوج کے پینسلوونیا میں واقع وار کالج میں جنگی کورس بھی کیا ہے۔

جنرل رضوان اختر نے پاکستان کے شمال مشرقی قبائلی علاقوں اور کراچی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں متعدد عہدوں پر کام کیا۔

توقع ہے کہ جنرل رضوان اختر میدان کا تجربہ رکھنے کے حوالے سے آئی ایس آئی کے لیے درست انتخاب ہیں۔

جنرل رضوان اختر کی گذشتہ منگل کو بطور آئی ایس آئی چیف تعیناتی کو پاکستان میں حسبِ معمول سراہا گیا۔

پاکستان کے ایک آن لائن اخبار نے اپنی رپورٹ میں انھیں ’پروفیشنل سپاہی‘ قرار دیا جبکہ ایک دوسرے اخبار کا کہنا تھا کہ وہ ہر لحاظ سے ایک ایسے سپاہی ہیں جن کی کوئی ’سیاسی خواہشات‘ نہیں ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ جنرل رضوان اختر خوفناک حد تک راست گو اور دو ٹوک بات کرنے والے انسان ہیں۔ وہ کراچی میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے وہاں کی سیاست اور میدان میں لڑی جانے والی جنگ کے باوجود ہمیشہ غیر جانبدار اور غیر سیاسی رہے ہیں۔

آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کے بارے میں متعدد افراد کا کہنا ہے کہ وہ فوجی افسروں کی ایسی نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو شدت پسندی کو ملک کی قومی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

جنرل رضوان اختر کے بارے میں کچھ افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سیاست سویلین حکومت کے پاس ہی رہنی چاہیے اور فوج کا کردار بیرونی دشمنوں سے مقابلے تک محدود ہونا چاہیے۔

تاہم پاکستان جیسے ملک میں جہاں ماضی میں فوجی بغاوتیں ہوتی رہی ہیں، یہ باتیں محض خوش خیالی کے زمرے میں آتی ہیں کہ چند فوجی افسر سویلین حکومت کو کمزور کرنے کے لیے سیاست میں ملوث نہیں ہوں گے۔

پاکستان میں سنہ 1977 سے 1988 تک جنرل ضیا کے مارشل لا دورِ حکومت میں حکومتوں اور آئی ایس آئی کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے۔

اس کے بعد جب پاکستان میں جمہوریت قائم ہوئی تو اس وقت کے فوجی اور آئی ایس آئی کے سربراہان تنازعات میں ملوث رہے جس میں سیاسی اتحاد کو رقوم فراہم کرنا، حکومت کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک کے دوران پارلیمنٹیرز کو خریدنے، اور انتخابی دھاندلی جیسے مسائل شامل تھے۔

جب جنرل مشرف نے سنہ 1999 میں حکومت کا تختہ الٹا تو آئی ایس آئی پس منظر میں چلی گئی تاہم جنرل مشرف کی رخصتی کے بعد آئی ایس آئی دوبارہ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔

بھارت میں سنہ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان میں اس وقت کے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جرنل احمد شجاع پاشا شہ سرخیوں میں آ گئے تھے جب انھوں نے بھارت کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے بھارت کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جرنل احمد شجاع پاشا کے دور میں میمو گیٹ سکینڈل کا تنازع سامنے آیا جس میں میبنہ طور پر امریکی حکومت سے سابق صدر زرداری کی حکومت کے خلاف ممکنہ فوجی بغاوت کی صورت میں مدد کی درخواست کی گئی تھی۔

احمد شجاع پاشا ہی کے دور میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی افواج نے ایک آپریشن میں ہلاک کیا جس کی وجہ سے پاکستان کی فوج کی بدنامی ہوئی۔

جنرل احمد شجاع پاشا کے پیش رو جنرل ظہیر اسلام پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انھوں نے موجودہ وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا اہتمام کیا کیونکہ انھوں نے ایک ٹی وی چینل کی جانب سے جنرل ظہیر اسلام اور دیگر آئی ایس آئی کے حکام پر 19 اپریل کو ایک ٹی وی اینکر پر حملے کرنے کے الزام کی حمایت کی تھی۔

اسی بارے میں