سندھ کی انتظامی تقسیم کے خلاف مظاہرے، ہڑتال

سندھ کی انتظامی تقسیم کے مطالبے کے خلاف سندھ کے کئی علاقوں میں کاروبار بند ہے اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

اس ہڑتال کا اعلان سندھ ترقی پسند پارٹی نامی قوم پرست جماعت نے کیا تھا۔ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے پاکستان میں مزید انتظامی یونٹوں کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔

عمرکوٹ، مٹھی، بدین، میرپور خاص، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، ٹھٹہ، مورو، نوشہرو فیروز، نواب شاہ، سکھر، لاڑکانہ، کندھ کوٹ، گھوٹکی اور جیکب آباد میں مکمل طور پر کاروبار بند رہا، جبکہ حیدرآباد میں سندھی آبادی والے علاقوں میں ہڑتال کا اثر دیکھا گیا۔

ہڑتال کے باعث انڈس ہائی وے سمیت بڑی شاہراہوں پر ٹریفک معمول سے کم رہی جبکہ اکثر شہروں میں پیٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن بھی بند ہیں۔

سکھر، جیکب آباد، ٹنڈو محمد خان، خیرپور ناتھن شاہ، جاتی، ہالا، نیو سعید آباد، غوث پور اور دیگر شہروں میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے، جب کہ بعض مقامات پر پتلوں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔

سندھ کی انتظامی تقسیم کے مطالبے پر سندھ کی قوم پرست جماعتوں، اپوزیشن اور حکمران پاکستان پیپلز پارٹی نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ اس مطالبے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جمعرات کو سندھ اسمبلی نے قرارداد بھی منظور کی تھی۔

قومی عوامی تحریک کی جانب سے پچھلے دنوں ایک کُل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں تمام جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ سندھ میں رہنے والی تمام قومیتیں سندھی ہیں اور وہ سندھ کی تقسیم کے حق میں نہیں ہیں۔

سندھ ترقی پسند پارٹی کے قائم مقام چیئرمین فاتح سمیجو کا کہنا ہے کہ سندھ دشمن قوتیں اپنے مفادات کی خاطر سندھ کی تقسیم چاہتی ہیں، اس لیے ان کے کندھوں پر یہ تاریخی ذمہ داری ہے کہ ان سازشوں کو ناکام بنائیں۔

اسی بارے میں