افغانستان میں قید پاکستانی صحافی کی رہائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

افغانستان کے صوبے ننگر ہار کی ہائی کورٹ نے غیرقانونی طور پر افغانستان میں داخل ہونے کے الزام میں سزا پانے والے پاکستانی صحافی فیض اللہ کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کے نجی ٹیلی وژن اے آر وائی کے رپورٹر فیض اللہ اس سال اپریل میں قبائلی علاقوں میں رپورٹنگ کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے۔

فیض اللہ کو اس سال27 اپریل کو صوبہ ننگرہار میں مقامی پولیس نے غیر قانونی طور پر افغانستان میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا۔

جلال آباد کی ایک عدالت نے فیض اللہ کو اس جرم میں چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔

پاکستان میں صحافتی تنظمیوں نے نہ صرف فیض اللہ کو سزا دیے جانے کی مذمت کی تھی بلکہ ان کی رہائی کے لیے وزارت خارجہ کے ذریعے افغان حکومت سے ان کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

ننگرہار میں بی بی سی پشتو سروس کے نامہ نگار احمد ضیا کے مطابق فیض اللہ کی جیل سے رہائی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا اور رہائی کے بعد انھیں کابل منتقل کر کے پاکستانی سفارتخانے میں حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے ذرائع نے فیض اللہ کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تاحال اس بات کا فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ فیض اللہ کو طورخم کے راستے پاکستان روانہ کیا جائے گا یا ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی پہنچایا جائے گا جہاں ان کے خاندان اور احباب منتظر ہیں۔

ادھر اسلام آباد میں وزارت خارجہ کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے تاہم سرکاری ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویزرشید نے فیض اللہ کی رہائی کے فیصلے پر نہ صرف ان کے خاندان کو مبارک باد پیش کی ہے بلکہ افغان حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔

انھوں نے فیض اللہ کی رہائی پر صحافتی تنظیموں اور وزارت خارجہ کی بھی تعریف کی ہے۔

یاد رہے کہ ماہ رمضان میں جب ننگرہارکی عدالت نے صحافی فیض اللہ کو چار سال قید کی سزا سنائی تھی تواس وقت وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے دعوی کیا تھا کہ فیض اللہ عید الفظر اپنے فیملی کے ساتھ گزاریں گے۔

اگرچہ وہ خواہش توپوری نہ ہوسکی لیکن اب امید ہے کہ عیدالضحٰی کراچی میں اپنے خاندان کے ساتھ منانے کےلیے وہ جلد پاکستان پہنچ جائیں گے۔

اسی بارے میں