وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پارلیمنٹ تصادم کیس میں عدالت نے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار سمیت گیارہ افراد پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے

اسلام آباد کی ایک عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت گیارہ افراد کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

مقدمہ درج کرنے کا حکم اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پارلیمنٹ تصادم کیس کے حوالے سے دائر درخواست پر دیا۔

یہ اس معاملے میں وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے خلاف درج ہونے والا دوسرا مقدمہ ہوگا۔

عدالت نے جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کو کہا ہے ان میں شریف براداران کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق، قائم مقامی آئی جی اسلام آباد خالد خٹک، آئی جی پنجاب، آئی جی ریلوے پولیس اور ایس ایس پی اسلام آباد شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 31 اگست کو پارلیمان کے سامنے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی گئی تھی

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ سے 31 اگست کو دھرنوں میں شریک چار افراد ہلاک ہوئے اور اس کارروائی کا حکم وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے دیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان عوامی تحریک کی درخواست پر اسلام آباد پولیس پہلے ہی دارالحکومت میں جاری دھرنے میں شریک دو افراد کی ہلاکت پر وزیر اعظم میاں نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سمیت تین وفاقی وزرا کے خلاف قتل اور اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کر چکی ہے۔

اس سے پہلے لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بھی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر افراد کے خلاف قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

رواں برس 17 جون کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القران کے دفتر کے باہر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں