’نواز شریف امین نہیں رہے‘: سپریم کورٹ کے بنچ کی تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ کے رجسٹرار نےدرخواست لینے سے انکار کیا تھا لیکن چیف جسٹس نے اسے عدالت میں سننے کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس آئینی درخواست کی سماعت کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت صادق اور امین نہیں رہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم نواز شریف کی نااہلی کا معاملہ سننے کے لیے جو تین رکنی بینچ تشکیل دیا ہے اس کی سربراہی جسٹس جواد ایس خواجہ کریں گے۔

یہ بینچ 29 ستمبر سے اس معاملے کی سماعت کرے گا۔

وزیرِ اعظم کے خلاف یہ درخواست تحریکِ انصاف کے ایک رہنما اسحاق خاکوانی کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور اسے جمعے کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کیا گیا تھا۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اُترتے کیونکہ اب وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف لاہور میں ماڈل ٹاؤن میں متعدد افراد کی ہلاکت کا مقدمہ درج ہے اور اس کے علاوہ اُنھوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس مں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے ختم کرنے کے لیے فوج کو ’سہولت کار‘ کا کردار ادا کرنے سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فوج کے ترجمان کی طرف سے بیان سامنے آیا ہے کہ وزیر اعظم نے آرمی چیف کو دھرنے ختم کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کو کہا تھا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا تھا کہ حکومت نے فوج کو نہ تو مذاکرات کے لیے کوئی ٹاسک دیا ہے اور نہ ہی فوجی قیادت نے ایسا کوئی کردار حکومت سے مانگا ہے۔

تاہم وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریڈ زون کی سکیورٹی فوج کے ذمے ہے اور اگر وہ اُنھیں کردار ادا کرنے کے لیے نہ بھی کہتے تو پھر بھی فوج نے دھرنا دینے والی جماعتوں سے بات چیت کرنی تھی۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے اس درخواست پر اعتراض لگا کر اسے ناقابل سماعت قرار دیا تھا تاہم اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر چیف جسٹس ناصر الملک نے رجسٹرار کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ابتدائی سماعت کے لیے منظور کر لیا تھا۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم کے اس بیان پر ان کی اہلیت سے متعلق درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی تقاریر کو عدالتوں میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔

مزید براں میاں نواز شریف، ان کے بھائی شہباز شریف اور حکمران جماعت کے دیگر کئی ارکان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرنے کا حکم اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے دے دیا ہے۔

اسلام آباد کی ایک عدالت نے یہ حکم بھی پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر دیا ہے۔

عدالت نے جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کو کہا ہے ان میں شریف براداران کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق، قائم مقامی آئی جی اسلام آباد خالد خٹک، آئی جی پنجاب، آئی جی ریلوے پولیس اور ایس ایس پی اسلام آباد شامل ہیں۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ سے 31 اگست کو دھرنوں میں شریک چار افراد ہلاک ہوئے اور اس کارروائی کا حکم وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے دیا تھا۔

اسی بارے میں