خیبر پختونخوا، فاٹا میں پرتشدد واقعات، تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹانک میں چند روز پہلے جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے کے دو افراد کو بھی فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فائرنگ کا ایک واقعہ اتوار کی صبح صوبائی دارالحکومت پشاور میں پیش آیا جہاں گلبہار کے علاقے میں عشرت سینما کے قریب نامعلوم افراد نےایک شخص کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا۔

پشاور پولیس کے اہلکاروں نے بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے دونوں افراد معمر ہیں۔

نامعلوم حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس کے مطابق عبدالغفور نامی شخص اس واقعے میں ہلاک ہوگئے جبکہ عبدالرحمان زخمی ہیں۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں لیکن ان دونوں افراد کی کسی سے ذاتی دشمنی یا رنجش کی اطلاع نہیں ہے۔

پشاور کے سپرٹنڈنٹ پولیس مصطفیٰ تنویر نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ حملہ آوروں نے عبدالغفور نامی شخص کو نشانہ بنایا ہے جبکہ عبدالرحمان ایک راہگیر تھے۔

ادھر خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک کے قریب نیم قبائلی علاقے اور پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے دو افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ایف آر ٹانک سے ملنے والی لاش کے بارے میں مقامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اسے نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا ہے۔ مقتول کا نام شیخ غلام اور تعلق ضلع بنوں سے بتایا گیا ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ مقتول کو چند روز پہلے اغوا کیا گیا تھا لیکن سرکاری اہلکاروں نے اس بارے میں لا علمی کا اظہار کیا ہے۔

قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے بھی ایک شخص کی لاش ملی ہے جسے فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق یہ لاش تحصیل حلیم زئی کے علاقے غازی کور کے قریب سے دریافت ہوئی جسے سرکاری اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ لاش کی شناخت فراز کے نام سے ہوئی ہے جسے ہاتھ پاؤں باندھ کر فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ اہلکاروں نے بتایا کہ فراز مہمند ایجنسی کا ہی رہائشی تھا۔

گزشتہ چند ہفتوں سے قبائلی اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے لاشیں ملنے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں