بلوچستان :’بیرونی ممالک کو قونصل خانے کی اجازت بھی نہیں‘

Image caption وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان خصوصاً کوئٹہ کے حالات کراچی اور پشاور سے بہت بہتر ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں نہ صرف غیر ملکیوں کی نقل وعمل پر پابندی ہے بلکہ دیگر ممالک کے سفارتخانوں کو قونصل خانے قائم کرنے کی بھی اجازت نہیں۔

ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ نے امریکی قونصل جنرل برائن ہیتھ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

محکمہ اطلاعات حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ نے امریکی سفارت کار سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان خصوصاً کوئٹہ کے حالات کراچی اور پشاور سے بہت بہتر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تمام ممالک کے سفارت خانوں کو پشاور اور کراچی میں قونصلیٹ قائم کرنے کی اجازت ہے جبکہ کوئٹہ اور بلوچستان میں غیر ملکیوں کی نہ صرف نقل و حمل پر پابندی ہے بلکہ یہاں ان کو قونصلیٹ بھی قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ قونصلیٹ نہ ہونے کے سبب لوگوں کو بہت سے مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم موجودہ مخلوط حکومت کی پہلی ترجیحات میں شامل ہے لیکن بلوچستان کے وسائل انتہائی محدود ہیں اس لیے بلوچستان حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر پا رہی۔

انھوں نے امریکی سفارت کار کو آگاہ کیا کہ بلوچستان میں سکولوں سے محروم 23 لاکھ بچوں کے لیے کم از کم 12 ہزار نئے تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گذشتہ دس سال کے دوران بلوچستان میں تمام اداروں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، لہٰذا ان کی بحالی اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی اکثریت پاکستان کے وفاق کے ساتھ دینا چاہتی ہے اور وہ اپنے سیاسی و قومی معاملات کو پاکستان کے وفاق کے دائرہ کار میں رہ کر جمہوری و سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں