دھرنوں میں کمسن بچے نہ لے کر آئیں: ہائی کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے اسلام آباد کے ڈی کوچ میں دھرنوں کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے والی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی قیادت سے کہا ہے کہ وہ دھرنوں میں کمسن بچوں کو نہ لے کر آئیں۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت ان دھرنوں میں جتنے بھی کمسن بچے موجود ہیں اُنھیں ان دھرنوں سے الگ کر دیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ عبوری حکم وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کے نفاذ سے متعلق دونوں جماعتوں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں پر دیا۔

ان درخواستوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج اطہر من اللہ نے کی۔ اُنھوں نے کہا کہ اس وقت تک جو ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا ہے اس کے مطابق اسلام آباد کی انتظامیہ کی طرف سے ان دھرنوں کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور بادی النظر میں یہ دھرنے غیر قانونی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص قانون سے مبرا نہیں ہے اور قصورواروں کو ایسے ہی نہیں جانے دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بہت سے لوگوں اپنے پورے پورے خاندانوں کے ساتھ مستقل ان دھرنوں میں موجود ہیں

اُنھوں نے کہا کہ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ یہ دھرنے اور احتجاج پرامن ہیں یا نہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ اگر کسی دھرنے میں ایک بھی شخص ڈنڈا بردار ہو تو وہ کیسے پرامن ہو سکتا ہے؟

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنوں سے پہلے اجازت نہیں لی تھی۔ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھاکہ اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ ان دونوں جماعتوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کو تیار ہے۔

عدالت کا کہنا ہے اگر احتجاج اور دھرنے پرامن ہوں تو پھر اس کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر دھرنا دینے والی سیاسی جماعتیں یہ اخراجات برداشت کریں گی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت کے عبوری حکم نامے پر عمل کیا گیا ہے، جس پر عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد کے تمام سرکاری سکولوں میں رہائش پذیر پولیس اہلکاروں کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے اور ان سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان دھرنوں میں کمسن اور شیر خوار بچے بھی شامل ہیں

عدالت کو بتایا گیا کہ ان جماعتوں نے لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں لی تھی۔ جس پر جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ صرف دھرنا دینے والے افراد کے ہی حقوق نہیں ہیں، بلکہ اُن افراد کے حقوق کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا جو ان لاؤڈ سپیکروں کے بے دریغ استعمال سے متاثر ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں