’امتیازی سلوک اور خوف کے 40 سال‘

Image caption ربوہ کے قبرستان کے ایک الگ حصے میں وہ لوگ دفن ہیں جن کو فرقہ واریت کی بنا پر قتل کیا گیا

سات ستمبر کو پاکستانی آئین میں کی گئی دوسری ترمیم کو چالیس برس ہو گئے۔ اس ترمیم کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں احمدیوں کو پاکستان میں سب سے زیادہ مصائب زدہ اقلیت تصور کرتی ہیں۔ ان چالیس برس میں دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے مسلسل دباؤ تلے احمدیوں کے ذاتی اور سیاسی حقوق بتدریج محدود ہوئے ہیں۔

اسی ہفتے میرپورخاص میں ایک احمدی ڈاکٹر کو قتل کر دیا گیا اور اوکاڑہ میں ایک احمدی عبادت گاہ پر حملہ ہوا۔ اس وقت ربوہ پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جہاں احمدی خود کو نسبتاً محفوظ تصور کرتے ہیں۔

یہ شہر پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر سے کتنا مختلف ہے؟

اس کا ایک اندازہ تو ربوہ کے قبرستان سے ہوتا ہے جس کے ایک حصے میں صرف وہ لوگ دفن ہیں جن کو مذہبی منافرت کی بنا پر قتل کیا گیا۔

ان میں سے ایک اسامہ منیر کے والد ہیں جنہیں لاہور میں چار سال پہلے احمدی عبادت گاہ پر ہونے والے ایک حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ والد کی ہلاکت کے بعد اسامہ منیر ربوہ منتقل ہوئے۔ وہ کہتے ہیں گو ربوہ میں سکیورٹی کے حالات نسبتاً بہتر ہیں لیکن اس کے باوجود خطرات ہیں، خصوصاً قتل کے فتووں کی صورت میں۔

احمدی کمیونٹی کے ایک سربراە حمید اللہ چوہدری کا کہنا ہے کہ احمدیوں کے خلاف تشدد کی سرکاری طور پر ترغیب تو نہیں دی جاتی لیکن امتیازی قوانین کی بنیاد پر پہلے سے ڈر اور تقسیم کا شکار معاشرە مزید تقسیم ہو رہا ہے جس سے نسلی اور مذہبی بنیادوں پر تفرقہ بڑھتا جا رہا ہے ۔

Image caption رواں برس تشدد کے واقعات میں احمدی فرقے کے کم سے کم 13 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں چند ماہ کی بچی بھی شامل ہے۔

اسی سال ایک احمدی ڈاکٹر مہدی علی کو اس قبرستان کے باہر قتل کر دیا گیا۔ وہ بیرون ملک سے ربوہ کے ہسپتال میں کام کرنے آئے تھے۔

حمید اللہ چوہدری کا اٹھارہ برس کا پوتا کینیڈا میں ہے۔

’میں نے اس سے کہا کہ آؤ میرے ساتھ پاکستان آ جاؤ تو انگلی سے اپنے سر کی جانب اشارہ کر کے کہنے لگا کہ وہاں جائیں تو گولی مار دیتے ہیں۔‘

دوسری آئینی ترمیم کے دفاع میں جو دلیلیں دی جاتی ہیں ان کی ایک مثال ہمیں پاکستان علماء کونسل کے سربراہ طاہر اشرفی سے ملتی ہے جن کا کہنا ہے کہ احمدیوں کے خلاف قوانین امتیازی نہیں۔

Image caption دوسری ترمیم کو 40 برس ہوگئے جس کے ذریعے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا

’اس قانون سے احمدیوں کے خلاف تشدد کو روکا گیا ہے اور مسلمانوں کو حق دیا گیا ہے کہ وہ بجائے اس کے کہ فساد یا تشدد کی طرف جائیں وہ قانون کو استعمال کریں۔‘

ربوہ اور اس کے ارد گرد فرقہ واریت عام ہے۔ احمدیوں کے مطابق بارە ربیع الاول کے سالانہ جلوس میں ان کے خلاف نفرت انگیز تقاریر ہوتی ہیں لیکن ربوہ کی پولیس اسے معمول کی بات قرار دیتی ہے۔

تاہم ربوہ کے ایس ایچ او رانا محمد انور کا کہنا تھا کہ ”یہاں کوئی نہیں کہتا کہ انہیں تحفظ نہیں ہے ہم سب کی حفاظت کرتے ہیں۔" ربوہ کے برابر کی آبادی کا نام مسلم ٹاؤن ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان آبادیوں کے بیچ مسائل ہوتے ہیں تو انھوں نے کہا ”بس سکون ہی ہے۔ آپ کو تو پتا ہے کہ فرقوں میں تھوڑے بہت مسائل ہوتے ہیں لیکن ویسے سب ٹھیک ہی ہے۔”

یہ کہنا اپنی جگہ لیکن ایسی کئی مثالیں ہیں کہ احمدی نوجوان نسل کو ربوە سے باہر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔

حمیرا ربوہ سے باہر پڑھتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار تو تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ’ایک دفعہ بہت سارے لڑکوں نے ہماری وین پر پتھراؤ کیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ یہ لوگ یہاں کیوں پڑھ رہے ہیں۔ یہ تو

کافر ہیں۔ روزانہ میں اس عزم سے یونیورسٹی جاتی ہوں کہ میں نے خود ہی ان چیلنجز کا سامنا کرنا ہے کیونکہ میرے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ میں کہیں باہر جا کر پڑھوں۔‘

احمدی جماعت کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر ان کی اگلی نسل کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ انہیں خود کو مضبوط بنانا ہے۔

ربوہ احمدیوں کے لیے ایک پناە گاە تو ہے لیکن ان میں سے بہت سے لوگ ابھی بھی اس قصبے کو اپنے بچوں کے لیے محفوظ نہیں سمجھتے اور تحفظ کی تلاش میں بچوں کو پاکستان سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں