’امریکہ نے نریندر مودی کو خوش کرنے کے لیے یہ کیا‘

حرکت المجاہدین کے بانی اور انصار الامہ نامی ایک تنظیم کے رہنما مولانا فضل الرحمان خلیل نے امریکہ کی جانب سے ان پر لگنے والی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ماضی میں روس کے خلاف سٹنگر میزائل فراہم کرنے والا امریکہ دہشت گرد ہے یا وہ۔‘

بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ طیارہ شکن سٹنگر میزائل کوئی اسلام آباد میں تو نہیں بنتے تھے۔

’یہ میزائل جو سویت یونین کے خلاف عرب اور افغان مجاہدین استعمال کرتے تھے انہیں کون دیتا تھا؟ مدد وہ کرتے تھے شدت پسندوں کی یا میں؟ بات دراصل یہ ہے کہ ہم آہ بھی کریں تو بدنام اور وہ قتل بھی کریں تو کوئی بات نہیں۔‘

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ امریکہ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو خوش کرنے کے لیے کیا ہے۔

’اس میں ایک الزام بھی سچ پر مبنی نہیں۔ یہ بےبنیاد الزامات ہیں اور میں اس کے خلاف عدالت میں جاؤں گا۔ پرانی باتوں کو دوبارہ چلا کر دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

’میں دنیا کی ہر عدالت کا سامنا کرنے کو تیار ہوں لیکن اگر یہ سچ نہیں ہے تو میں جواب کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کی شدت پسند یا دہشت گرد کی تشریح مانے کو تیار نہیں ہیں۔ ’امریکہ کا دوہرا معیار ہے۔ کل تک (افغان) طالبان شدت پسند تھے لیکن آج ان کا قطر میں دفتر کھول کر بیٹھا ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ لاہور کے ان دو بھائیوں کو جن پر ان کے ساتھ پابندیاں لگائی گئی ہیں جانتے ہیں اور یہ کہ وہ بھی بےگناہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی مالی صورتحال پر ان پابندیوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اسی بارے میں