وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ عام بات نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے احتجاجی دھرنے اسلام آباد میں جاری ہیں جس میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

گذشتہ ماہ ستمبر میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف قتل کے دو مقدمات کے اندرج کے بعد قانون دان ایک بار پھر اس متنازع فیصلے کا ازسرنو مطالعہ کر رہے ہیں جس میں ملک کے منتخب وزیراعظم کو تختہ دار پر لٹکا دیاگیا تھا۔

وزیر اعظم نواز شریف اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف قتل کے دو مقدمے درج ہو چکے ہیں۔

پہلے لاہور ماڈل ٹاؤن میں طاہر القادری کی جماعت کے درجن بھر لوگوں کی ہلاکت کے مقدمہ درج ہوا جس میں چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف کو نامزد کیاگیا۔ دوسرا مقدمہ عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کی اسلام آباد میں احتجاجی مہم کے دوران دو مظاہرین کی ہلاکت کے الزام میں درج کیا گیا۔

ملک کے وزیر اعظم یا وزیراعلیٰ کےخلاف قتل کا مقدمہ درج ہونا کوئی عام واقع نہیں ہے اور آئینِ پاکستان اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو سرکاری فرائض کی ادائیگی میں مقدموں سے استثنیٰ مہیا کرتا ہے۔

قانونی ماہرین کےخیال میں آئین میں صدر پاکستان اور صوبائی گورنروں کو وزیراعظم اور وزیرِاعلیٰ سے زیادہ استثنیٰ حاصل ہے۔

قانونی ماہرین کے خیال میں وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کو کرمنل مقدمات میں بہت ہی محدود استثنیٰ حاصل ہے اور آئین وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے خلاف کرمنل مقدمے درج کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہوتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive
Image caption ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کےخاتمے کے بعد فوجی حکمران ضیا الحق کے دور میں نہ صرف یہ مقدمہ دوبارہ چلا بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایاگیا

قانونی ماہرین کے مطابق سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں صدر آصف علی زرداری کے استثنیٰ کے حوالے سے ہونے والی عدالتی کارروائیوں نے بھی اعلی حکومتی عہدیداروں کو حاصل آئینی استثنیٰ کو مزید الجھا دیا ہے۔

پاکستان کے ایک سابق اٹارنی جنرل نے بی بی سی کو بتایا کہ آئین پاکستان وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے خلاف ان کے دورِ اقتدار میں مقدمہ درج کرنے سے نہیں روکتا لیکن مقدمہ چلانے سے متعلق ایک محدود استثنیٰ مہیا کرتا ہے۔

ایڈووکیٹ احمد رضا قصوری نے جب نومبر 1974 میں لاہور کی شادمان کالونی میں اپنے والد کے قتل کا الزام اس وقت کے وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو پر عائد کیا تو پولیس نے نہ صرف مقدمہ درج کیا بلکہ حکومت نے ان الزامات کی تحقیقات کے ایک جوڈیشیل کمیشن کی تشکیل کی تھی۔

جسٹس (ریٹائرڈ) شفیع الرحمن کی سربراہی میں کام کرنے والے جوڈیشیل کمیشن نے اپنی تحقیقات میں وزیراعظم کے خلاف تمام الزامات کو رد کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جون میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع مہناج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں 14 افراد ہلاک اور 90 کے قریب زخمی ہو گئے تھے

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کےخاتمے کے بعد فوجی حکمران ضیا الحق کے دور میں نہ صرف یہ مقدمہ دوبارہ چلا بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایاگیا۔ پاکستان کی عدالتیں اس متنازعہ مقدمے کے بارے میں اتنی شرمندہ ہیں کہ اس مقدمے کا کبھی حوالہ تک نہیں دیتیں لیکن یہ متنازعہ عدالتی فیصلہ آج بھی پاکستان کے مستند عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران جب اس متنازعہ فیصلے کو کالعدم کرانے سے متعلق ایک ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیاگیا تو عدالت نے اس کی کبھی سماعت ہی نہیں کی۔

ممتاز ماہر قانون خالد جاوید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو ایک ’محدود استثنیٰ‘ حاصل ہے لیکن اب دنیا میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے استثنیٰ سے متعلق قوانین بدل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں اسرائیل کے صدر کا استثنیٰ ختم کر کے ان کے خلاف مقدمہ چلا اور انھیں جیل جانا پڑا۔ اسی طرح جرمنی کے صدر کا استثنیٰ ختم کر کے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیاگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد میں 31 اگست کو شاہراہ دستور پر مظاہرین کے وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے مارچ کر تصادم میں 3 ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہو گئے تھے

قانون دان خالد جاوید کا کہنا ہے کہ تکنیکی طور تو کہا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے لیکن سیاسی جلسوں میں ہلاک ہونے والے اشخاص کے مقدمے میں وزیراعظم کو نامزد کرنا ایک ایسی تبدیلی ہے جو کسی صورت بھی ’مثبت‘ نہیں کہی جا سکتی۔

قانونی ماہرین کے مطابق سول مقدمات کے برعکس کرمنل مقدمات کو عشروں بعد کھولا جا سکتا ہے۔

اگر حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا اور کسی آمر نے انھیں اپنے لیے خطرہ محسوس کیا تو کوئی بعید نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو مقدمے کے عدالتی ریکارڈ کو دوبارہ جھاڑ پھونک کر ان کے خلاف کارروائی کے لیے بیناد بنا لیا جائے۔

ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کی سیاست میں تو شاید کوئی مماثلت نہ ہو لیکن دونوں نے فوج کے لامحدود اختیارات کو محدود کرنے کوشش یا کم از کم خواہش ضرور کی ہے۔

اسی بارے میں