’نواز شریف کی نااہلی:‘ لارجر بینچ کی درخواست مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس مں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے ختم کرنے سے متعلق فوج کو سہولت کار کا کردار ادا کرنے سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا ہے

پاکستان کے چیف جسٹس ناصر الملک نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

یہ درخواستیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسحاق خاکوانی اور پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے دائر کی تھیں۔

ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اس لیے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

اس کے علاوہ تحریک انصاف کے رہنما اسحاق خاکوانی نے ہی جسٹس جواد ایس خواجہ کو ان درخواستوں کی سماعت کے لیے بنائے گئے تین رکنی بینچ سے الگ کرنے کی درخواست دائر کی تھی جو مسترد کر دی گئی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ دو اکتوبر جمعرات سے ان درخواستوں کی دوبارہ سماعت کرے گا۔

ان درخواستوں کی گذشتہ ابتدائی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل عرفان قادر نے عدالت سے زبانی استدعا کی تھی کہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے، جس پر بنچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ لارجر بینچ کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے لہٰذا اُنھیں تحریری درخواست دی جائے۔

ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نواز شریف نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے ختم کرنے سے متعلق فوج کو سہولت کار کا کردار ادا کرنے سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا ہے اس لیے وہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اُترتے کیونکہ اب وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فوج کے ترجمان کی طرف سے بیان سامنے آیا کہ وزیر اعظم نے آرمی چیف کو دھرنے ختم کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کو کہا تھا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں کہا تھا کہ حکومت نے فوج کو نہ تو مذاکرات کے لیے نہ تو کوئی ٹاسک دیا ہے اور نہ ہی فوجی قیادت نے ایسا کردار حکومت سے مانگا ہے تاہم وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریڈ زون کی سکیورٹی فوج کے ذمے ہے اور اگر اُنھیں کردار ادا کرنے کے لیے نہ بھی کہتے تو پھر بھی فوج کے دھرنا دینے والی جماعتوں سے بات چیت کرنی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں کہا تھا کہ حکومت نے فوج کو نہ تو مذاکرات کے لیے نہ تو کوئی ٹاسک دیا ہے اور نہ ہی فوجی قیادت نے ایسا کردار حکومت سے مانگا ہے

سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کے وکیل سے کہا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں ہونے والی کارروائی اور وزیراعظم کو اُن کے عہدے سے ہٹانے کے لیے آئین کے آرٹیکل 68، 69 اور 95 کے بارے میں تیاری کر کے آئیں۔

آئینی ماہرین کے مطابق آئین کا آرٹیکل 68 اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے متعلق ہے کہ ججوں کا طرزِ عمل پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا جبکہ آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمنٹ میں ہونے والی کارروائی کو کسی عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔

آرٹیکل 95 میں وزیراعظم کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے عدم اعتماد کی تحریک سے متعلق ذکر کیا گیا ہے۔ عدالت نے ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ابھی فیصلہ کرنا ہے۔ عدالت کی جانب سے ان درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں