فضل الرّحمان خلیل، حلیف سے حریف کیسے بنے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فضل الرحمان کا پنجابی طالبان پر بھی کافی اثر و رسوخ بتایا جاتا ہے

امریکہ کی جانب سے حرکت المجاہدین کے بانی فضل الرّحمان خلیل کو عالمی ’دہشت گرد‘ قرار دینے کی وجہ کیا ہے اور یہ وقت کیوں چناگیا؟

ماضی میں امریکی حلیف رہنے والے کیسے اچانک دہشت گرد قرار پائے؟ اس کی تین بڑی وجوہات دکھائی دیتی ہیں۔

فضل الرّحمان خلیل کا ماضی میں افغانستان میں روس کے خلاف جہدوجہد میں کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان افغانستان اور کشمیر کی محاذوں پر پیش پیش رہے۔

فضل الرحمان خلیل کون ہیں؟

’مجھے ایبٹ آباد جانا ہے‘

ظاہر ہے ایسے میں انھیں براہ راست نہ سہی لیکن بالواسطہ کسی نہ کسی طریقے سے امریکی مدد حاصل تھی۔

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے امریکی سٹنگرز کا ذکر کیا جو وہ روس کے خلاف خود چلا چکے ہیں۔اس وقت مشترکہ دشمن سویت یونین تھا۔ آج صورتحال مختلف ہے۔ یہ تبدیلی آئی کیوں؟

افغانستان اور طالبان کے امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی طاہر خان کہتے ہیں کہ روسیوں کے خلاف ’جہاد‘ تو ان کے جانے کے ساتھ ختم ہوا لیکن جہادی سوچ اور دنیا بھر سے آنے والے شدت پسند ختم نہیں ہوئے۔

’انھیں نیا محاذ چاہیے تھا۔ روسیوں کے انخلا کے بعد بعض جہادیوں نے کشمیر کا رخ کیا لیکن بعد میں وہ پھر واپس افغانستان آگئے۔ پھر سنہ 1998 میں جب القاعدہ کا افغانستان میں باضابطہ اعلان ہوا تو وہ تھا ہی امریکہ کے خلاف۔ تو پہلے یہ اگر اتحادی تھے تو اسی سوچ نے انھیں ان کا مخالف بنا دیا۔‘

فضل الرّحمان خلیل کو دہشت گرد قرار دینے کی بڑی وجہ افغانستان میں آنے والا منظرنامہ ہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ براہ راست رابطے اور قطر میں دفاتر کھولنے کو پاکستان میں شدت پسند طبقے امریکہ کی دوہری پالیسی گردانتے ہیں۔

ایک جانب وہ ان سے لڑ رہے ہیں اور دوسری جانب وہ ان کے اخراجات برداشت کرتے ہوئے انھیں قطر میں سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔

امریکہ بھی ماضی کے پاکستانی حلیفوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ پنجابی طالبان کا افغانستان سے متعلق بیان پاکستانی شدت پسندوں کی سوچ اور منصوبہ بندی کی واضح ترین مثال ہے۔

وہ اب پاکستان سے زیادہ افغانستان میں دلچسپی لینا چاہتے ہیں۔ فضل الرّحمان کا پنجابی طالبان پر بھی کافی اثر و رسوخ بتایا جاتا ہے اور شک کیا جاتا ہے کہ اس بیان میں ان کا عمل دخل بھی ہے۔

پنجابی طالبان کی طرف سے اپنی تمام توجہ افغانستان پر مرکوز کرنے کے بیان پر تشویش قدرتی امر ہے۔ صحافی طاہر خان کہتے ہیں کہ آغاز میں پنجابی طالبان کے رہنما امیر معاویہ حرکت المجاہدین کے ساتھ تھے: ’تعلقات تو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ان کے رابطے بھی ہوتے ہیں۔ صلح بھی کرواتے ہیں۔‘

امریکہ کے لیے دوسری وجہِ تشویش اس سال اگست کے اوائل میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں مولانا فضل الرّحمان خلیل کا وہ بیان ہے جس میں انھوں نے تمام مسلمانوں کے لیے جہاد فرض قرار دیا تھا۔ تیسری وجہ بھارتی وزیر اعظم کا دورہ امریکہ بھی مانا جا رہا ہے۔

یقیناً ہندوستان اور بھارت کے درمیان بات چیت میں پاکستان اور یہاں پر موجود بھارت مخالف تنظیموں کا بھی ذکر ہوا ہوگا۔ امریکی فیصلے کی وجہ جو بھی ہو افغانستان کے حوالے سے خطے میں جو نئی صف بندی دیکھی جا رہی ہیں، یہ یقیناً اسی کا حصہ ہے۔

اسی بارے میں