وزیر اعظم کی نااہلی کا ریفرنس سپیکر نے مسترد کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption درخواست گزار نے سپیکر کی اس رولنگ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے

قومی اسمبلی کے سپیکر نے وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیت سے متعلق بھیجا گیا ریفرنس مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔

یہ ریفرنس اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر کیا گیا تھا جس میں آئین کے آرٹیکل 63 کی شق 2 کے تحت وزیر اعظم کی اہلیت سے متعلق سوال اُٹھایا گیا تھا۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران شاہراہِ دستور پر دھرنا دینے والی جماعتوں کے قائدین سے مذاکرات میں کردار ادا کرنے کے بارے میں فوجی قیادت سے متعلق ایک جھوٹا بیان دیا تھا اس لیے وہ قومی اسمبلی کے رکن بننے کی اہلیت پر پورا نہیں اُترتے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر نے اس ریفرنس کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا مذکورہ آرٹیکل وزیر اعظم کی اہلیت سے متعلق کوئی سوال نہیں اُٹھاتا۔ درخواست گزار نے سپیکر کی اس رولنگ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں سماعت

Image caption جسٹس دوست محمد خان کا کہنا تھا کہ صحابہ کرام کے بعد شاید ہی کوئی صادق اور امین رہا ہو

اُدھر سپریم کورٹ میں وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

درخواست گزار گوہر نواز کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں فوج کی قیادت سے متعلق جو بیان دیا تھا جو جھوٹ پر مبنی تھا اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

بینچ میں موجود جسٹس دوست محمد خان کا کہنا تھا کہ صحابہ کرام کے بعد شاید ہی کوئی صادق اور امین رہا ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر اسی بات کو ہی پیمانہ بنا لیا جائے تو پھر درخواست گزاروں سمیت پوری پارلیمنٹ فارغ ہو جائے گی۔ اُنھوں نے کہا مجرم ثابت ہونے تک کسی بھی رکن اسمبلی کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے درخواست گزاروں سے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے والی جماعتوں سے مذاکرات کے لیے وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان بات چیت تو بند کمرے میں ہوئی تھی اور کیا آپ میں سے کوئی بھی آرمی چیف کو بطور گواہ یا پھر اُن کا بیان حلفی عدالت میں پیش کر سکتا ہے؟ درخواست گزاروں نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

البتہ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان ہونے والی ملاقات کی خبریں اخبارات میں چھپی ہیں۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں درخواستیں اخباری خبر کو بنیاد بناتے ہوئے دائر کر دی گئی ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وہ اپنی درخواست میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں جس پر عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت 15 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں