این اے 215 کے انتخابی مواد کا فورنسک ٹیسٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ذذذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق اس حلقے میں وسیع پیمانے پر بدعنوانی ہوئی تھی۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 میں مبینہ دھاندلی کا پتہ لگانے کے لیے الیکشن ٹرائبیونل کے کمیشن کی پہلی رپورٹ کے بعد تحقیقات کا دوسرا مرحلہ شروع ہو رہا ہے جس میں فورنسک ایجنسی ووٹرز کے انگوٹھوں کی تصدیق کرےگی۔

لاہور میں قومی اسمبلی کے اس اہم حلقے سے مئی سنہ 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدوار اور موجودہ وفاقی وزیر برائے ریلویز خواجہ سعد رفیق کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ اس حلقے سے خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اور معروف وکیل رہنما حامد خان نے انتخاب لڑا تھا۔

حامد خان کی طرف سے دائر کردہ الیکشن پٹیشن کی سماعت کرنے والے فیصل آباد میں الیکشن کمیشن کے ٹریبیونل کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ آئندہ سماعت چار اکتوبر کو کی جائے گی۔ اس کیس کو لاہور الیکشن ٹریبیونل سے فیصل آباد الیکشن ٹربیونل منتقل کر دیا گیا تھا۔

تاہم ٹریبیونل ذرائع نے مقامی میڈیا پر چلنے والی اس خبر کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ٹرائبیونل کے کمیشن نے 29 ستمبر کی سماعت کے موقع پر اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مئی 2013 کےعام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں تھیں۔

نام نہ بتانے کی شرط پر ایک انتظامی اہلکار نے بتایا کہ درخواست گذار حامد خان کی رضامندی پر حلقہ این اے 125 کے سات پولنگ سٹیشنز کا ریکارڈ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ’نیشنل فورنسک سائنس ایجنسی‘ میں تصدیق کے لیے پہنچا دیا گیا ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ فورنسک رپورٹ آئندہ دو ہفتوں تک موصول ہو جائے گی۔

اس عمل میں یہ تحقیق کی جائے گی کہ آیا وٹرز کے انگوٹھوں کی قابل شناخت ہونے یا نہ ہونے کا پتہ لگایا جائے گا۔

تیسرے اور آخری مرحلے پر یہ معاملہ نادرا حکام کے سپرد کیا جائےگا۔ جو قابل شناخت انگوٹھوں کے نشان کی تصدیق کرے گے کہ آیا ووٹ اصل وٹر نے ڈالا یا نہیں۔

الیکشن ٹریبیونل حکام کے مطابق کمشن کے سربراہ کی جانب سے ٹرائبیونل کے سامنے پیش کی جانے والی فرسٹ کمیشن رپورٹ کی کاپیاں درخواست گزار حامد خان اور اس حقلے سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق کے وکلا کو دی گئی ہیں۔

تاہم بارہا رابطہ کرنے کے باوجود حامد خان اور خواجہ سعد رفیق سے کمیشن کی رپورٹ پر کوئی ردعمل نہیں مل سکا۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کو چار حلقوں میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ثبوت ہیں کہ انتخابات میں منظم انداز میں دھندلی ہوئی جس میں الیکشن کمیشن اور پولنگ کا عملہ بھی شامل تھا۔

اس وقت ملک کے چاروں صوبوں میں 14 ٹرائبیونل کام کر رہے تھے جن میں سے صوبہ پنجاب میں پانچ جبکہ باقی تین صوبوں میں تین تین ٹرائبیونل کام کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق اب تک صرف لاہور میں قائم ٹرائبیونل میں 58 درخواستیں دائر کی گئی جن میں سے دو پر ضمنی انتخابات منعقد ہوچکے ہیں کچھ پر ہونے باقی ہیں جبکہ 11 درخواستیں ایسی ہیں جن پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔

لاہور الیکشن ٹریبیونل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گیارہ درخواستوں میں سے چھ پر لاہور ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے۔

’ یہ درخواستیں مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کی جانب سے دائر کی گئ ہیں۔‘

امیدوار الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب 29 ستمبر کو پاکستان الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اشتیاق احمد خان نے کہا تھا کہ گذشتہ سال کے عام انتخابات کے لیے چھاپےگئے تین کروڑ سے زیادہ غیراستعمال شدہ بیلٹ پیپروں کا ریکارڈ انتخابی کمیشن کے پاس موجود نہیں ہے۔

انھوں نے انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کو ریٹرننگ افسران پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہے۔

اسی موقع پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلی کے850 نشستیں ہیں جن کے خلاف 400 عذرداریاں الیکشن ٹریبونل میں جمع ہوچکی ہیں۔

اسی بارے میں