خیبر ایجنسی: فضائی حملوں میں 15 شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حالیہ دنوں میں زیادہ تر کاروائیاں دور افتادہ پہاڑی علاقے وادی تیراہ کے علاقے میں کی گئیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فوج کے مطابق شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ہونے والے فضائی حملوں میں کم سے کم 15 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جمعے کو جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبر ایجنسی میں عسکریت پسندوں کےٹھکانوں پر کامیاب فضائی کاروائی کی گئی جس میں ان کے تین ٹھکانے تباہ کردیے گئے۔

بیان کے مطابق اس کاروائی میں کم سے کم 15 شدت پسند بھی مارے گئے۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ یہ کاروائی خیبر ایجنسی کے کس علاقے میں کی گئی ہے۔

اس سے پہلے خیبرایجنسی میں حالیہ دنوں میں زیادہ تر کاروائیاں دور افتادہ پہاڑی علاقے وادی تیراہ کے علاقے میں کی گئیں جہاں اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں کے کئی گروہ سرگرم بتائے جاتے ہیں۔

اس علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ کئی مہینوں سے جاری ہے۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے گذشتہ کئی سالوں سے عسکری تنطیموں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم ابھی تک کسی علاقے کو بھی مکمل طورپر کلئیر نہیں کرایا جاسکا ہے۔ ان کاروائیوں کی وجہ سے خیبر ایجنسی کے علاقوں باڑہ اور وادی تیراہ سے لاکھوں افراد نے بے گھر ہوکر مہاجر کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی ضربِ عضب میں توسیع کے بعد بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جن میں گذشتہ ماہ کی جانے والے ایک کارروائی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور لشکر اسلام کے چار اہم سینیئر کمانڈر مارے گئے تھے۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے زمینی کارروائیوں میں سرچ آپریشن بھی جاری ہیں جس میں کئی مرتبہ گرفتاریوں اور گولہ بارود کے تحویل مںی لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اس کے علاوہ شدت پسند تنظیموں کے آپسی رنجشوں اور جھڑپوں میں بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔

خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے گذشتہ کئی سالوں سے غیر قانونی تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم حکومت کی طرف سے متعدد بار دعوے کے باوجود ابھی تک علاقہ شدت پسندوں سے صاف نہیں کرایا جا سکا ہے۔

اسی بارے میں